نئی دہلی میں احتجاج پر کریک ڈاؤن، پولیس پر تشدد کے الزامات، مودی حکومت شدید تنقید کی زد میں

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی پر شدید تنقید سامنے آئی ہے، جبکہ مظاہرین نے وزیراعظم نریندر مودی اور بھارتی وزیرِ تعلیم سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق احتجاجی تحریک سے وابستہ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دہلی پولیس نے نوجوانوں، خواتین اور طلبہ کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال کیا۔

بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے بھی پولیس کی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے اسے پرامن جمہوری احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی تذلیل قرار دیا۔

رپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ کی جانب جانے والے راستوں پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے سخت کارروائی کی۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق احتجاج کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے اور درجنوں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے ردِعمل میں برطانیہ کے شہروں لندن اور مانچسٹر میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر بھی مظاہرے کیے گئے، جہاں مظاہرین نے بھارتی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

رپورٹس کے مطابق امتحانی اسکینڈل سے شروع ہونے والا یہ احتجاج اب حکومتی پالیسیوں اور نظامِ حکمرانی کے خلاف وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button