امریکا کے پاس ایران کیساتھ طویل جنگ کیلیے میزائل نہیں بچے، امریکی میڈیا

واشنگٹن (ویب ڈیسک)امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف طویل اور وسیع جنگ جاری رکھنے کے لیے فضائی دفاعی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا وافر ذخیرہ موجود نہیں، تاہم اس دعوے کی امریکی حکومت نے باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
ٹیلی گراف اور واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، لیکن ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ میزائلوں کے محدود ذخائر بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
عہدیدار کے مطابق، "ہمارے پاس اتنے میزائل نہیں کہ محفوظ انداز میں طویل عرصے تک فوجی کارروائیاں جاری رکھ سکیں، اور میرا خیال ہے کہ وائٹ ہاؤس کو اس صورتحال کا مکمل اندازہ نہیں۔”
ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین، اردن اور شام میں اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ بحرین نے کہا کہ ایک ایرانی حملے سے اس کے فضائی نیویگیشن نظام کو نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران ایک بار پھر امریکا کے ساتھ مکمل جنگ کی صورتحال میں داخل ہو چکا ہے اور واشنگٹن کو اس کے نتائج قبول کرنا ہوں گے۔
اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے، تاہم سفارتی کوششیں بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق مختلف ثالث ممالک کی جانب سے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے تجاویز پر تبادلہ خیال جاری ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا ہے کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
امریکی محکمہ دفاع نے حالیہ کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے دو فوجیوں کی شناخت فرسٹ لیفٹیننٹ ٹائلر جیمز فیہان اور پرائیویٹ ازابیلا گونزالیز کے نام سے کی ہے، جبکہ ایک اور امریکی فوجی شمالی عراق میں ایرانی ڈرون کے غیر پھٹے ہوئے بارودی مواد کو ناکارہ بناتے ہوئے ہلاک ہوا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا نے اپنے فوجیوں کے اعزاز میں ایران کو انتہائی سخت جواب دیا ہے، جبکہ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) یا وائٹ ہاؤس نے اب تک اس بات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی کہ امریکا کے میزائل ذخائر اس حد تک کم ہو چکے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف طویل جنگ جاری نہ رکھ سکے۔



