امریکا کا ایران پر بڑا حملہ، 80 سے زائد اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ، تیل کی پابندیاں بھی بحال کر دیں

واشنگٹن/تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف ایک بار پھر بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جبکہ ایرانی تیل کی فروخت سے متعلق عارضی رعایت بھی ختم کر دی گئی ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان قائم نازک جنگ بندی ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق منگل کو ایران میں 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد ایران کی سمندری حملوں کی صلاحیت کو کمزور کرنا اور اسے بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرنا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق حملوں میں پاسداران انقلاب کے 60 سے زائد چھوٹے جنگی بحری جہاز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، اینٹی شپ کروز میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں، جن میں خارگ آئل ٹرمینل، جزیرہ قشم، بندر عباس اور سیریک شامل ہیں، میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایک تجارتی گھاٹ پر نامعلوم میزائل کے ٹکڑے گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ کچھ ماہی گیر کشتیوں میں بھی آگ لگ گئی۔ تاہم فوری طور پر کسی شہری ہلاکت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایرانی ذرائع کے مطابق خارگ آئل ٹرمینل، جہاں سے ایران کی بڑی مقدار میں خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں، کے قریب بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم امریکی فوج نے اس مقام کو براہ راست نشانہ بنانے کی تصدیق نہیں کی۔

ایران کے مرکزی فوجی کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء نے امریکی حملوں کو "کھلی جارحیت” قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔ ایرانی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔

ادھر امریکا نے ایران کو تیل فروخت کرنے کی عارضی اجازت بھی واپس لے لی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے جون میں جاری کیا گیا جنرل لائسنس منسوخ کر دیا، جس کے تحت ایران کو محدود مدت کے لیے خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات عالمی منڈی میں فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ متعلقہ کمپنیوں کو 17 جولائی تک لین دین ختم کرنے کی مہلت دی گئی ہے۔

امریکی فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ توانائی کے شعبے میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی۔

ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی اقدامات کو جنگ بندی فریم ورک کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو اس کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق تہران اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق رکھتا ہے۔

دوسری جانب قطر نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک قطری ایل این جی ٹینکر سمیت دو تجارتی جہازوں پر حملوں میں ایران ملوث ہے۔ قطری حکومت نے ایرانی نائب سفیر کو طلب کرکے احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے۔

ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن بحری جہازوں نے ایران سے رابطہ کیے بغیر متبادل راستے اختیار کیے، انہیں خود خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقل معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکا مزید سخت کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق دھمکیوں کے ماحول میں کسی حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی حملوں، ایرانی ردعمل اور تیل پابندیوں کی بحالی نے خطے کی کشیدگی کو ایک بار پھر خطرناک سطح تک پہنچا دیا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈی، بحری تجارت اور بین الاقوامی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button