"پردہ جو اٹھ گیا تو بھید کھل جائے گا” وزیر اعظم کے اوپن چیلنج پر اپوزیشن ڈھیر،مولانا فضل الرحمان سرپرائز انٹری کے لیے تیار!

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)سیاسی افق پر اچانک مچے ہنگامے اور پسِ پردہ سنسنی خیز ڈیلز نے ملک کا سیاسی درجہ حرارت انتہا پر پہنچا دیا ہے۔ آزاد کشمیر میں کئی روز سے جاری بحران اور عوام دشمن ہڑتالوں کے بعد بالآخر ایک انتہائی طاقتور مڈئیٹر میدان میں آگیا ہے، جس کے بعد بڑے بڑے بتوں کے پاؤں اکھڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے ملک کی ایک انتہائی بااثر مذہبی و سیاسی شخصیت مولانا فضل الرحمان کو خفیہ خط لکھ کر اس ہولناک بحران سے نکلنے کے لیے سالسی کی اپیل کر دی ہے، جس پر مولانا نے دھرنا ختم کرنے کی کڑی شرط عائد کرتے ہوئے حکومت اور مظاہرین کے درمیان ضامن بننے کی ہامی بھر لی ہے۔ دوسری جانب حیرت انگیز طور پر اس سنگین ترین ملکی بحران پر صدر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کی گہری خاموشی نے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے اور سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں کہ آیا یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ اسی دوران کراچی بی آر ٹی یلو لائن منصوبے میں اربوں روپے کے بڑے میگا کرپشن اسکینڈل کے مرکزی کردار ضمیر عباسی کو لاہور سے ڈرامائی انداز میں گرفتار کر کے پانچ روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے، جس کے بعد سندھ حکومت کے کئی پردہ نشینوں کے چہرے بے نقاب ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ادھر وفاقی دارالحکومت میں بجٹ کی منظوری کے فوری بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو چاروں شانے چت کرتے ہوئے ایک ایسا ماسٹر اسٹروک کھیلا ہے جس نے سب کو سکتے میں ڈال دیا؛ وزیراعظم نے دوٹوک چیلنج کیا ہے کہ اگر موجودہ حکومت کا آڈٹ کرنا ہے تو پہلے 2018 کے دھاندلی زدہ انتخابات اور آر ٹی ایس بند ہونے کی ہولناک سچائی کا آڈٹ کیا جائے، جس نے پی ٹی آئی کو بیک فٹ پر دھکیل دیا ہے۔ اس سنسنی خیز سیاسی پس منظر اور اندرونی کہانیوں کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے سینیئر صحافی امداد سومرو کا وی لاگ آخر تک لازمی دیکھیں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button