ایران سنجیدہ ہو تو امریکا مذاکرات کیلئے تیار ہے،امریکی وزیر خارجہ

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نےکہا ہےکہ بحران کے خاتمےکے لیے امریکا اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کا خواہاں ہے، تاہم ایران بات چیت میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہا۔
آسیان وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکا ہمیشہ سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، ہم اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہیں، اور ایران کے معاملے میں بھی یہی مؤقف برقرار ہے۔
مارکو روبیو نےکہا کہ ایران ماضی میں کیےگئے معاہدوں کی پاسداری نہیں کرسکا، اگر ایران مذاکرات میں سنجیدہ ہوا تو امریکا بھی سنجیدگی سے بات کرےگا، بصورت دیگر امریکا اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کسی ملک کو یہ مثال قائم کرنے دی گئی کہ وہ کسی بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر قبضہ کرے، وہاں سےگزرنے والے جہازوں پر ٹول عائد کرے اور ادائیگی نہ کرنےکی صورت میں جہازوں کو نشانہ بنائے تو یہ ایک انتہائی خطرناک نظیر ہوگی، ایسی مثال بعد میں دنیا کے دیگر خطوں، خصوصاً اس خطے میں بھی دہرائی جاسکتی ہے جو عالمی تجارت اور آزادی جہاز رانی کے لیے سنگین خطرہ بنے گی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ایساسفارتی حل چاہتے ہیں جو ایران کے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنےکویقینی بنائے، ایرانی حکومت کے ساتھ اعتماد کا فقدان ہے، مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے دو ہفتے سے بھی کم عرصےمیں اس کی خلاف ورزی کر دی گئی، چین نے ایران کے ساتھ جنگ کے رخ کو تبدیل کرنے کے لیےکوئی اقدام نہیں کیا اور بعض مواقع پر تعاون بھی کیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑا "فساد پھیلانے والا” ملک ایران ہے۔



