ایران رویہ بدلے تو سفارت کاری ممکن ہے، دروازہ بند نہیں کرنا چاہتے، مارکو روبیو

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران اپنا رویہ تبدیل کرے تو سفارت کاری کی گنجائش موجود ہے، کیونکہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات اور سفارت کاری کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہتا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو محفوظ رکھنے کے بجائے مبینہ طور پر تین تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جو کسی بھی مفاہمتی یا سفارتی کوشش کے برعکس اقدام ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اب بھی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ امریکا ان اقدامات کے جواب میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کے مطابق مختلف ذرائع سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ ایران مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اندر معاشی مشکلات کے باعث پالیسی کے حوالے سے اختلافات بڑھ رہے ہیں، جہاں ایک حلقہ مذاکرات کا حامی ہے جبکہ دوسرا سخت مؤقف برقرار رکھنے پر زور دے رہا ہے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ اگر ایران میں مذاکرات کے حامی عناصر فیصلہ سازی میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی، تاہم موجودہ حالات میں امریکا اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا عالمی بحری راستوں اور تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا، لیکن یہ بوجھ صرف امریکا کو نہیں اٹھانا چاہیے۔

مارکو روبیو نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھی اس مشترکہ ذمہ داری میں حصہ لے اور عالمی بحری تجارت کے تحفظ کے لیے فوجی سازوسامان، بحری وسائل یا مالی معاونت فراہم کرے تاکہ بین الاقوامی سمندری راستوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button