چین کا’’مچھر‘‘ڈرون،دفاعی ٹیکنالوجی میں تہلکہ،امریکا کی نیندیں حرام

بیجنگ(سپیشل رپورٹ)چین نے ڈرون ٹیکنالوجی میں انتہائی چھوٹے پیمانے پر ایک حیران کن پیش رفت کا مظاہرہ کیا ہے، جہاں تقریباً 0.3 گرام وزنی اور صرف 2 سینٹی میٹر لمبا مائیکرو ڈرون تیار کیا گیا ہے۔ مچھر سے مشابہ یہ بائیونک ڈرون چین کی نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی (NUDT) سے وابستہ محققین نے تیار کیا، جسے ممکنہ طور پر نگرانی اور خصوصی فوجی مشنز کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی اس لیے غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے کہ روایتی ڈرونز میں استعمال ہونے والے موٹر، پروپیلر اور دیگر پرزوں کو چھوٹا کرنے کے بجائے چینی محققین نے کیڑے کے اڑنے کے انداز کی نقل کرتے ہوئے ایک ایسا ڈیزائن اختیار کیا ہے جس میں انتہائی باریک پر، چھوٹا جسم اور دھاگے جیسی ٹانگیں شامل ہیں۔

صرف 0.3 گرام وزن، مگر اندر کئی نظام

رپورٹس کے مطابق اس مائیکرو ڈرون کا وزن تقریباً 0.3 گرام ہے اور اس کی لمبائی لگ بھگ 2 سینٹی میٹر بتائی گئی ہے۔ اس کے پروں کو انتہائی تیزی سے حرکت دینے کے لیے بائیونک فلائٹ میکانزم استعمال کیا گیا ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں پروں کی حرکت کی رفتار 500 مرتبہ فی سیکنڈ تک بتائی گئی ہے۔

اس قدر کم وزن میں سینسرز، کنٹرول الیکٹرانکس، پاور سسٹم اور ممکنہ کمیونی کیشن اجزا کو سمیٹنا خود ایک بڑا انجینئرنگ چیلنج ہے۔ چین کے سرکاری ٹی وی پر دکھائی گئی ایک دوسری پروٹوٹائپ شکل میں چار پروں والا ورژن بھی دکھایا گیا، جسے اسمارٹ فون کے ذریعے کنٹرول کیے جانے کا بتایا گیا۔

میدانِ جنگ میں ممکنہ استعمال

چینی محققین نے اس قسم کے بائیونک مائیکرو روبوٹس کو انفارمیشن ریکانائسنس اور خصوصی فوجی مشنز کے لیے موزوں قرار دیا ہے۔ انتہائی چھوٹا حجم اسے ایسے مقامات تک پہنچنے کی صلاحیت دے سکتا ہے جہاں روایتی ڈرون یا نگرانی کے آلات کے لیے رسائی مشکل ہو۔

اس کا چھوٹا حجم روایتی ریڈار کے ذریعے اس کی نشاندہی کو بھی مشکل بنا سکتا ہے، تاہم اسے مکمل طور پر ’’ناقابلِ سراغ‘‘ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ایسے انتہائی چھوٹے ڈرونز کو عملی میدان میں استعمال کرنے کے لیے بجلی، کمیونی کیشن، کنٹرول اور موسم جیسے کئی مسائل درپیش ہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ: توانائی اور بیٹری

مائیکرو ڈرون جتنا چھوٹا ہوتا ہے، اتنی ہی مشکل اس کے لیے مناسب توانائی کا انتظام بن جاتا ہے۔ چند سو ملی گرام کے پلیٹ فارم میں ایسی بیٹری نصب کرنا جو طویل پرواز، سینسرز، کنٹرول اور کمیونی کیشن سب کو بیک وقت طاقت فراہم کر سکے، ایک انتہائی مشکل کام ہے۔

اسی طرح تیز ہوا بھی اس طرح کے ہلکے ڈرون کے لیے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق انتہائی کم وزن اور محدود پاور کے باعث موجودہ پروٹوٹائپ کو کھلے ماحول میں مسلسل اور قابلِ اعتماد آپریشن کے لیے ابھی مزید ترقی کی ضرورت ہے۔

کیا چین نے مغرب کو پیچھے چھوڑ دیا؟

0.3 گرام کے چینی پروٹوٹائپ نے یقیناً مائیکرو روبوٹکس میں توجہ حاصل کی ہے، لیکن یہ کہنا کہ مغرب اس ٹیکنالوجی کو بنانے میں ناکام یا بہت پیچھے ہے فی الحال زیادہ مضبوط دعویٰ ہوگا۔ امریکا اور دیگر ممالک میں بھی کئی برس سے کیڑے نما مائیکرو فلائنگ روبوٹس پر تحقیق جاری ہے۔

مثلاً ہارورڈ سمیت مختلف اداروں میں انتہائی چھوٹے روبوٹک کیڑوں پر تحقیق ہو چکی ہے، جبکہ امریکی دفاعی اداروں نے بھی حشرات سے متاثرہ مائیکرو روبوٹکس کے منصوبوں پر کام کیا ہے۔ اس لیے اصل مقابلہ صرف وزن کم کرنے کا نہیں بلکہ خودمختار پرواز، بیٹری، سینسرز، کمیونی کیشن، کنٹرول اور عملی ماحول میں قابلِ اعتماد کارکردگی کا ہے۔

ڈرون جنگ کا اگلا مرحلہ؟

چین کا یہ مائیکرو ڈرون اس بات کی نشاندہی ضرور کرتا ہے کہ مستقبل میں ڈرون ٹیکنالوجی صرف بڑے کواڈ کاپٹرز یا جنگی طیارہ نما ڈرونز تک محدود نہیں رہے گی۔ اگر توانائی اور کنٹرول کے مسائل حل ہوگئے تو انتہائی چھوٹے بائیونک ڈرونز نگرانی، صنعتی معائنوں، محدود جگہوں کی جانچ اور دیگر مخصوص کاموں میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

تاہم موجودہ معلومات کی بنیاد پر اسے ایک متاثر کن تجرباتی پروٹوٹائپ سمجھنا زیادہ درست ہے، نہ کہ ایسی مکمل طور پر تیار شدہ فوجی ٹیکنالوجی جو ہر ماحول میں بڑے پیمانے پر تعیناتی کے لیے تیار ہو۔

چین کی جانب سے 0.3 گرام کے اس مائیکرو ڈرون کا مظاہرہ بہرحال یہ ثابت کرتا ہے کہ ڈرون کی دنیا میں ’’چھوٹا‘‘ اب صرف کم حجم نہیں بلکہ ایک نئی ٹیکنالوجی کی سمت بن چکا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button