ایل پی جی280روپے کے بجائے650 روپے کلو تک فروخت ہونے لگی،عوام پریشان

عرفان کھوکھر کے مطابق پاکستان میں روزانہ ایل پی جی کی کھپت پہلے 60 سے 65 ہزار کلوگرام تھی، جو موسم کی تبدیلی کے باعث بڑھ کر تقریباً 70 ہزار کلوگرام تک پہنچ گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل پی جی کی قیمت 280 روپے فی کلوگرام مقرر کر رکھی ہے، تاہم مارکیٹ میں یہی گیس 600 سے 650 روپے فی کلوگرام تک فروخت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق صارفین سرکاری نرخ سے تقریباً 320 روپے فی کلوگرام زیادہ ادا کر رہے ہیں، جس کی بنیاد پر پانچ روز میں اضافی وصولیوں کا تخمینہ ایک ارب 40 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
عرفان کھوکھر نے الزام عائد کیا کہ ایل پی جی کی زائد قیمتوں پر فروخت کئی روز سے جاری ہے، لیکن اوگرا کی جانب سے اب تک کسی پلانٹ کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق متعلقہ اداروں کے درمیان یہ طے کرنے کے لیے اجلاس ہو رہے ہیں کہ کارروائی کون کرے گا، جبکہ اوگرا ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں اور پلانٹس کے خلاف کارروائی کرنے کا مجاز ہے۔
دوسری جانب لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں پیرا فورس کی جانب سے دس سے زائد دکانداروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ دکانداروں کا مؤقف ہے کہ انہیں ایل پی جی مہنگے داموں فراہم کی جا رہی ہے، اس لیے سرکاری نرخ پر فروخت کرنے سے انہیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران گیس بھرنے کے آلات ضبط کیے جانے اور جرمانوں کے باعث کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایل پی جی امپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر شیخ مکرم نے قیمتوں میں اضافے کی وجہ تفتان بارڈر کی بندش اور رسد میں کمی کو قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سپلائی متاثر ہونے سے قیمتیں اچانک بڑھیں، جبکہ اوگرا کی جانب سے مقرر کردہ ٹرانسپورٹیشن اخراجات بھی موجودہ حالات کے مطابق نہیں ہیں۔
شیخ مکرم کے مطابق ایل پی جی کے باؤزر کی نقل و حمل پر 50 سے 60 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں، لیکن اوگرا اب بھی سال 2010 کے حساب سے ٹرانسپورٹیشن کرایہ شمار کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس مسئلے پر اوگرا کے چیئرمین سمیت اعلیٰ حکام کو متعدد بار آگاہ کیا گیا، تاہم تاحال کوئی مؤثر حل سامنے نہیں آیا۔
ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے پر ڈسٹری بیوٹرز اور درآمد کنندگان کے مؤقف کے بعد اصل سوال یہ ہے کہ سرکاری نرخ، رسد کی صورت حال اور ٹرانسپورٹیشن اخراجات کا تعین کس بنیاد پر ہو رہا ہے اور صارفین کو اضافی قیمتوں سے ریلیف کب ملے گا۔



