قیامت خیزگرمی میں لوڈ شیڈنگ کا دوہراعذاب،عوام بلبلا اٹھے،پانی اورگیس کابحران بھی سنگین

ماتلی(رپورٹ اے۔ایم ۔گدی/جانوڈاٹ پی کے)ضلع بدین کا سب سے بڑا اور تقریباً3لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل شہر ماتلی ان دنوں بجلی،گیس اور پانی کے سنگین بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں عیدالاضحیٰ کے دنوں سے جاری غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہری زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔
جانوڈاٹ پی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے شہریوں کاکہنا ہے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مجموعی دورانیہ 16 سے 18 گھنٹے تک جا پہنچا ہے جبکہ بعض علاقوں میں 7-7گھنٹے مسلسل بجلی بند رکھنے کے باوجود اضافی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بھی کی جا رہی ہے۔
ماتلی اور گردونواح میں درجہ حرارت48سے50ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے لیکن شدید گرمی کے باوجود خصوصاً شام5 بجے سے رات گئے تک لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں بجلی کی طویل بندش کے باعث یو پی ایس بیٹریاں مکمل جواب دے جاتی ہیں جبکہ سولر سسٹمز بھی غیر مؤثر ہو جاتے ہیں جس کے باعث ہزاروں خاندان شدید گرمی، حبس اور مچھروں کے رحم و کرم پر رہ جاتے ہیں، بزرگ مرد و خواتین، بیمار افراد، خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جبکہ متعدد علاقوں میں لوگ راتیں جاگ کر گزارنے پر مجبور ہیں۔
بجلی بحران کے باعث پانی کا مسئلہ بھی سنگین ہو چکا ہے کیونکہ بجلی بند ہوتے ہی واٹر سپلائی اور گھریلو موٹرز بند ہو جاتی ہیں جس کے باعث شدید گرمی میں پینے اور گھریلو استعمال کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے۔
گیس کی لوڈشیڈنگ بھی شہریوں کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن گئی ہے اورصبح ناشتے کے اوقات اوررات کھانا پکانے کے دوران گیس کی عدم دستیابی معمول بن چکی ہے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ عید کے 3دن میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ وقتی طور پر کم کر کے عوام کو ریلیف دیا گیا تھا تاہم اب دوبارہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بجلی چوری اور لائن لاسز کی ریکوری کے لیے مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بڑھا دی گئی ہے جبکہ کئی علاقوں میں سسٹم پر بجلی موجود ظاہر ہونے کے باوجود رات گئے ٹرانسفارمرز سے سپلائی بند رکھی جاتی ہے، شہریوں، سماجی حلقوں اور متاثرہ خاندانوں نے وفاقی و صوبائی حکام، حیسکو اور سوئی گیس انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے، پانی کی فراہمی بہتر بنانے اور شہریوں کو اس سنگین بحران سے نکالنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔



