چانڈکا میڈیکل کالج کے زیر اہتمام ذیابیطس آگاہی ریلی اور سیمینار کا انعقاد
ذیابیطس کا مرض اب خاموش بیماری نہیں رہی بلکہ کھلا قومی بحران بن چکا ہے جہاں ہر چوتھا پاکستانی ذیابطیس کا شکار ہے، ماہرین کا خطاب

لاڑکانہ (رپورٹ: احسان جونیجو/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے) لاڑکانہ میں عالمی یوم ذیابیطس پر چانڈکا میڈیکل کالج کے شعبہ ذیابیطس کے زیر اہتمام آگاہی ریلی اور سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈاکٹروں اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
شعبہ ذیابطیس کے سربراہ ڈاکٹر مجیب الرحمٰن ابڑو، ماہر شعبہ میڈیسن ڈاکٹر حاکم علی ابڑو، ماہر شعبہ نیفرالاجی ڈاکٹر غلام عباس قادری اور دیگر ماہرین نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ذیابیطس کا مرض اب خاموش بیماری نہیں رہی بلکہ کھلا قومی بحران بن چکا ہے جہاں ہر چوتھا پاکستانی ذیابطیس کا شکار ہے۔
ماہرین نے انکشاف کیا کہ ملک میں ذیابیطس کی شرح 26.3% تک پہنچ گئی ہے جبکہ صوبہ سندھ اور خصوصاً لاڑکانہ بدترین متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔ سروے کے مطابق پاکستان میں 27.4 ملین بالغ ذیابیطس کے مریض موجود ہیں، جبکہ پری ذیابیطس کی 14.4% شرح مستقبل کے خطرناک دھماکے کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ لاڑکانہ کے اسپتالوں میں پیچیدگیوں کی بڑھتی شرح اس بات کا ثبوت ہے کہ تشخیص تاخیر سے ہو رہی ہے اور علاج کے مواقع کم پڑ رہے ہیں۔
ماہرین نے واضح کیا کہ اگر فوری اور بڑے پیمانے پر اسکریننگ، آگاہی، صحت مند طرز زندگی اور بہتر ہسپتال سے سہولیات کا آغاز نہ کیا گیا تو ذیابیطس کی بیماری آنے والے برسوں میں پاکستان کے لیے پوری طرح کی ہیلتھ ایمرجنسی بن جائے گی. سیمینار میں وائس چانسلر شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر نصرت شاہ نے مہمان خاص کی حیثیت سے شرکت کی۔



