اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں کے مقدمات، لاہور ہائیکورٹ نے ای فائلنگ رولز 2026 جاری کردیئے

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) اوورسیز پاکستانیوں کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق خصوصی عدالتوں کے لیے ای فائلنگ اینڈ پروسیجر رولز 2026 جاری کردیئے۔
رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئے قواعد پنجاب اسٹیبلشمنٹ آف سپیشل کورٹس (اوورسیز پاکستانی پراپرٹی) ایکٹ 2025 کے تحت مرتب کیے گئے ہیں، جن کا مقصد جائیدادوں سے متعلق مقدمات کی فائلنگ اور عدالتی کارروائی کو جدید ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنا ہے۔
نئے قواعد کے تحت خصوصی عدالتوں میں مقدمات کی الیکٹرانک فائلنگ، سماعت، عدالتی ریکارڈ اور دیگر کارروائیوں کو ڈیجیٹل نظام کے تحت لایا جائے گا۔ ای فائلنگ کے لیے لاہور ہائیکورٹ کے منظور شدہ پورٹل کا استعمال کیا جائے گا، جہاں درخواستیں، دستاویزات، حلف نامے اور دیگر متعلقہ ریکارڈ الیکٹرانک صورت میں جمع کرائے جاسکیں گے۔
فائلنگ مکمل ہونے کے بعد درخواست گزار کو الیکٹرانک رسید، فائلنگ نمبر اور ادائیگی سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں گی۔ وکلا اور فریقین کے لیے پورٹل پر رجسٹریشن لازمی ہوگی، جبکہ شناختی معلومات اور بنیادی الیکٹرانک پتے کے ذریعے پورٹل تک رسائی دی جائے گی۔
قواعد کے مطابق عدالت فریقین کی درخواست پر یا مناسب سمجھنے کی صورت میں کارروائی کو الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے آگے بڑھا سکے گی۔ فائل کی جانے والی دستاویزات قابلِ قبول، واضح اور مقررہ فارمیٹ میں اپ لوڈ کرنا ہوں گی، جبکہ تصاویر، آڈیو، ویڈیو، نقشے اور دیگر متعلقہ مواد بھی منظور شدہ طریقہ کار کے تحت الیکٹرانک ریکارڈ کا حصہ بن سکیں گے۔
لاہور ہائیکورٹ نے الیکٹرانک نوٹس اور سروس کے لیے بھی طریقہ کار وضع کردیا ہے۔ فریقین کو نوٹس ای میل، پورٹل نوٹیفکیشن یا دیگر منظور شدہ الیکٹرانک ذرائع سے بھیجا جاسکے گا، جبکہ الیکٹرانک سروس کا ریکارڈ عدالتی کارروائی کا حصہ تصور ہوگا۔
نئے قواعد کے تحت خصوصی عدالتوں کو مناسب حالات میں ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت کرنے کی اجازت بھی ہوگی، جس سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی عدالتی کارروائی میں شرکت آسان بنائی جاسکے گی۔ تاہم عدالت فریقین کی حاضری، کارروائی کی شفافیت اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طریقہ کار طے کرے گی۔
قواعد میں الیکٹرانک شواہد اور عدالتی ریکارڈنگ سے متعلق بھی تفصیلی ضوابط شامل کیے گئے ہیں۔ عدالت الیکٹرانک طور پر پیش کیے گئے قابلِ قبول شواہد کا جائزہ لے سکے گی، جبکہ عدالتی کارروائی کی ریکارڈنگ اور الیکٹرانک ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لیے بھی طریقہ کار مقرر کیا گیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے مطابق عدالتی فیصلوں، ڈگریوں اور دیگر اہم دستاویزات کو پورٹل پر اپ لوڈ کیا جائے گا۔ مخصوص حالات میں الیکٹرانک طور پر اپ لوڈ کیا گیا فیصلہ سرکاری نقل تصور کیا جاسکے گا، جبکہ ڈیجیٹل طور پر تصدیق شدہ نقول کے اجرا اور تصدیق کا طریقہ بھی وضع کیا گیا ہے۔
قواعد میں الیکٹرانک ریکارڈ کی سکیورٹی، اسٹوریج اور رازداری کے لیے بھی اقدامات مقرر کیے گئے ہیں۔ حساس عدالتی معلومات تک رسائی قانون اور لاہور ہائیکورٹ کی پالیسی کے مطابق محدود رکھی جائے گی، جبکہ ریکارڈ کے تحفظ کے لیے بیک اپ اور دیگر حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق جہاں ای فائلنگ عملی طور پر ممکن نہ ہو، وہاں مخصوص وجوہات کی بنیاد پر فزیکل فائلنگ کی اجازت دی جاسکے گی۔ اسی طرح پورٹل میں تکنیکی خرابی یا سروس میں تعطل کی صورت میں فائلنگ کے متبادل طریقہ کار کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری 14 صفحات پر مشتمل دستاویز کے مطابق نئے قواعد میں ای فائلنگ، سماعت، عدالتی ریکارڈ، فیصلوں، نوٹسز اور عبوری انتظامات سمیت اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق مقدمات کے لیے مکمل ڈیجیٹل طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔



