خلیجی اتحادی ٹرمپ سے مایوس؟امریکی اڈوں پر نظرِ ثانی شروع،مکہ دفاعی معاہدہ واشنگٹن کیلئے بڑاسگنل قرار
مکہ دفاعی معاہدہ واشنگٹن کیلئے خطرے کی گھنٹی؟

واشنگٹن (جانو ڈاٹ پی کے) امریکا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مؤثر سفارت کاری میں مبینہ ناکامی نے خلیج میں واشنگٹن کے دیرینہ اتحادیوں کو بھی بے چین کردیا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے عرب، یورپی اور امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر ناراضی اور تشویش بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کے لیے ضروری سفارتی عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں ناکام رہا ہے، جبکہ کئی ماہ سے جاری جنگ اور ایران و اس کے اتحادی گروہوں کے میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کی پالیسی پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
امریکی فوجی اڈے بھی سوالیہ نشان بن گئے؟
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کئی خلیجی ممالک اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی جاری رکھنے یا نہ رکھنے کے معاملے پر غور کررہے ہیں۔
رپورٹ میں تین موجودہ امریکی حکام اور ایک سابق سفارت کار کے حوالے سے بتایا گیا کہ بعض خلیجی ممالک میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ اگر امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی خطے کو ممکنہ حملوں کا ہدف بناتی ہے تو پھر ان اڈوں کی میزبانی کس حد تک فائدہ مند ہے۔
قطر اور بحرین میں امریکا کے اہم فوجی اڈے موجود ہیں اور خلیجی ریاستیں طویل عرصے سے واشنگٹن کو اپنا اہم سکیورٹی پارٹنر تصور کرتی آئی ہیں۔
’’جنگ ٹرمپ نے شروع کی، قیمت ہم ادا کررہے ہیں‘‘
واشنگٹن پوسٹ نے ایک خلیجی ملک کے اعلیٰ عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ:
’’یہ جنگ ٹرمپ نے شروع کی اور اس کی قیمت ہم ادا کررہے ہیں۔‘‘
اس بیان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خطے میں امریکی پالیسی کے حوالے سے بے چینی کس حد تک بڑھ چکی ہے۔
تاہم رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک اب بھی امریکا کو قریبی سکیورٹی پارٹنر اور بڑے اسلحہ فراہم کنندہ کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن بڑھتی ہوئی بے اعتمادی نے بعض ریاستوں کو متبادل سکیورٹی انتظامات تلاش کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
خلیجی ممالک متبادل راستے تلاش کرنے لگے
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض خلیجی حکومتیں مستقبل کے لیے نئے سکیورٹی انتظامات پر غور کررہی ہیں۔ اس تناظر میں گزشتہ ہفتے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کو بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔
ایک سینئر یورپی عہدیدار نے مبینہ طور پر اس معاہدے کو امریکا کے لیے واضح پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک اب اپنی دفاعی ضروریات کے لیے صرف واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہتے۔
مکہ دفاعی معاہدہ واشنگٹن کیلئے خطرے کی گھنٹی؟
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے رجحان کو خطے میں طاقت کے توازن کی ممکنہ تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔
اگر خلیجی ممالک واقعی امریکی فوجی موجودگی اور سکیورٹی انحصار پر نظرثانی کرتے ہیں تو اس کے اثرات صرف امریکا ایران کشیدگی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سکیورٹی پالیسی اور اتحادی نظام متاثر ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب خلیجی ممالک کے لیے امریکا اب بھی ایک اہم دفاعی شراکت دار ہے، اس لیے فوری طور پر واشنگٹن سے مکمل علیحدگی کے بجائے متبادل سکیورٹی شراکت داریوں کو مضبوط کرنے کی کوشش زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
یوں امریکا ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے خطے میں ایک نیا سوال کھڑا کردیا ہے: کیا خلیجی ریاستیں اپنی سکیورٹی کے لیے واشنگٹن پر پہلے جیسا انحصار برقرار رکھیں گی، یا پاکستان، ترکیہ اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ نئے دفاعی اتحاد خطے کی نئی حقیقت بنیں گے؟
نوٹ: واشنگٹن پوسٹ سے منسوب دعوے اور حکام کے بیانات رپورٹ شدہ معلومات کی بنیاد پر پیش کیے گئے ہیں؛ خلیجی ممالک کی جانب سے امریکی اڈوں کے مستقبل کے بارے میں کسی حتمی فیصلے کی تصدیق اس متن میں نہیں کی گئی۔



