اے آئی کی معمولی غلطی،امریکا اور چین کے درمیان جنگ چھڑ سکتی تھی،ہولناک رپورٹ

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)امریکی فوج اس وقت ایک ممکنہ خطرناک کارروائی کے قریب پہنچ گئی جب مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ غلط انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر مشرق وسطیٰ میں موجود ایک چینی بحری جہاز کو روکنے کی تیاری شروع کردی گئی۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے دوران رواں سال امریکی فوج کو ایک انٹیلی جنس رپورٹ موصول ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک چینی جہاز مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق پرزے لے جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے جہاز کو روکنے کا منصوبہ بنایا اور مسلح اہلکار اس پر سوار ہونے کی تیاری کرنے لگے جبکہ فوجی طیارے بھی فضا میں بھیج دیے گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق کارروائی سے کچھ دیر پہلے حکام نے رپورٹ کی مزید جانچ کی تو معلوم ہوا کہ اسے تیار کرنے والے اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے ایک تجزیہ کار نے مصنوعی ذہانت کی مدد لی تھی۔

چیٹ بوٹ نے جہاز کے سامان کی شناخت میں غلطی کی تھی اور غلط معلومات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ جہاز جوہری پروگرام سے متعلق مواد لے جا رہا ہے۔

ایک اور ذریعے نے رپورٹ کو مکمل طور پر غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے تقریباً جنگ کی صورت پیدا کردی تھی کیونکہ چینی جہاز کے خلاف امریکی کارروائی دونوں ممالک کے درمیان مسلح تصادم کا سبب بن سکتی تھی۔

امریکی فوج میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے تاہم یہ واقعہ جنگی فیصلوں اور ہدف بندی میں اے آئی پر انحصار کے ممکنہ خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مختلف امریکی ادارے مختلف اے آئی نظام استعمال کر رہے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی معلومات کی تصدیق کے لیے یکساں معیارات موجود نہیں ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button