کشمیر میں آر یا پار کی جنگ! دھرنا ختم کرنے کے لیے 48 گھنٹے کا فائنل الٹی میٹم، عبرتناک کریک ڈاؤن کی تیاری

راولاکوٹ(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)آزاد کشمیر میں جاری سنگین سیاسی بحران انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے جہاں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو راولہ کوٹ دھرنا فی الفور ختم کرنے کے لیے 48 گھنٹے کا فائنل الٹی میٹم جاری کر دیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اگر یہ ڈیڈ لائن ختم ہونے تک دھرنا ختم نہ کیا گیا تو ریاست پاکستان کی جانب سے ایک انتہائی عبرتناک اور منظم کریک ڈاؤن شروع کر دیا جائے گا جس کے بعد مفاہمت کے تمام راستے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے۔ انتظامیہ نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ایک کروڑ روپے انعام والے زیرِ زمین اشتہاری رہنماؤں کے علاوہ بننے والے کسی بھی نئے ڈیلیگیشن سے ہی بات چیت ہوگی۔ اس سخت ترین الٹی میٹم کے بعد وادیِ نیلم کا دھرنا تو حکمتِ عملی کے تحت ختم کر کے راستے کھول دیے گئے ہیں، مگر راولہ کوٹ میں دھرنا جاری رکھنے پر قیادت میں شدید پھوٹ پڑ چکی ہے۔ دوسری جانب ریاست نے دھرنے کی پشت پناہی کرنے والے سرکاری ملازمین اور پینشنرز کے خلاف جیو فینسنگ کی مدد سے گھیرا تنگ کر دیا ہے، جس کے تحت متعدد ملازمین کی تنخواہیں اور پینشنز فوری طور پر بند کر کے انہیں نوکریوں سے برخاست کرنے کی کارروائی شروع ہو چکی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ آٹے اور بجلی پر سبسڈی جیسے جائز مطالبات تو مان لیے گئے، مگر حلف نامے سے "پاکستان کے ساتھ الحاق” کے جملے حذف کرنے اور مہاجر نشستوں کے سنگین مطالبات پر کوئی لچک نہیں دکھائی جائے گی۔ دوسری طرف لائن آف کنٹرول اور پاک بھارت بارڈر پر بھی بھارتی فوج کی نئی قیادت اور اجیت ڈوول کے گھناؤنے پراکسی نیٹ ورکس کے باعث جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔




