انڈر ورلڈ کے اثر و رسوخ اور کالے دھن کے استعمال نے بالی ووڈ چھوڑنے پر مجبور کیا، کمل ہاسن

ممبئی(جانوڈاٹ پی کے)تامل سنیما کے لیجنڈ اداکار کمل ہاسن نے بالی ووڈ میں کامیابی کے باوجود ہندی فلموں سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی وجہ سے پردہ اُٹھا دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی فلم انڈسٹری سے وابستہ کمل ہاسن نے 1974ء میں اپنے استاد اور معروف ہدایت کار کے بالاچندر کی فلم آئینہ میں مختصر کردار کے ذریعے ہندی سنیما میں قدم رکھا، تاہم انہیں اصل شہرت 1981ء میں فلم ایک دوجے کے لیے سے ملی، جو کے بالاچندر کی تیلگو فلم مارو چرترا کا ہندی ری میک تھی۔

اداکارہ رتی اگنی ہوتری کے ساتھ ان کی یہ رومانوی فلم تنقیدی اور تجارتی دونوں اعتبار سے کامیاب ثابت ہوئی اور کمل ہاسن بالی ووڈ کے نمایاں اداکاروں میں شامل ہو گئے۔

بعد ازاں انہوں نے صنم تیری قسم، یہ تو کمال ہو گیا، ذرا سی زندگی اور 1983ء میں سری دیوی کے ساتھ فلم صدمہ جیسی یادگار فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے، تاہم 1985ء کے بعد کمل ہاسن نے تقریباً 1 دہائی تک بالی ووڈ سے دوری اختیار کیے رکھی۔

بعد میں انہوں نے 1997ء میں اپنی تامل فلم اووائی شنموگی کے ہندی ری میک چاچی 420 کے ذریعے واپسی کی۔

اس کے بعد وہ ہے رام، ابھے، ممبئی ایکسپریس، وشوروپ اور وشوروپ 2 جیسی فلموں میں بھی نظر آئے۔

2017ء میں نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کمل ہاسن نے بتایا کہ انہوں نے طویل عرصے تک بالی ووڈ میں کام نہ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس دور کے حالات مختلف تھے، میں خود کو ہندی فلم انڈسٹری میں ایک کمزور رشتے دار کی طرح محسوس کرتا تھا، مجھے اپنے کئی کام خود کرنے پڑتے تھے، جبکہ وہاں کے فنکار آسودہ حال تھے اور ایک وقت میں 6، 6 فلمیں کر لیتے تھے، مجھے یہ ماحول حوصلہ شکن محسوس ہوتا تھا، جو میری دوری کی ایک وجہ بنا۔

کمل ہاسن نے انکشاف کیا کہ بالی ووڈ میں مبینہ طور پر انڈر ورلڈ کے اثر و رسوخ اور کالے دھن کے استعمال نے بھی مجھے اس صنعت سے دور رہنے پر مجبور کیا۔

انہوں نے کہا کہ بالی ووڈ میں انڈر ورلڈ سے بہت زیادہ تعلقات تھے، میں نہ تو اس کے خلاف کھڑا ہونا چاہتا تھا اور نہ ہی اس کے دباؤ کے آگے جھکنا چاہتا تھا، میں ان اداکاروں میں شامل تھا جنہوں نے فیصلہ کیا کہ ہمارا کالے دھن سے کوئی تعلق نہیں ہو گا، میں آج بھی اپنے اس فیصلے پر مطمئن ہوں، میرے بھائی اور میں نے بہت پہلے یہ عہد کیا تھا کہ ہم کبھی بلیک منی استعمال نہیں کریں گے۔

مزید خبریں

Back to top button