پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کی قیادت پر ابہام ختم، جنید اکبر بدستور صوبائی صدر
پی ٹی آئی میں اہم تنظیمی وضاحت، جنید اکبر صوبائی صدر برقرار، نورالحق قادری اجلاسوں کی صدارت کریں گے

پارلیمنٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی کے اندرونی معاملات پر حقائق کی تصدیق کیے بغیر فوری ردعمل دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق سیکریٹری جنرل کے ٹویٹ کی بنیاد بننے والی خبر درست نہیں تھی اور انہوں نے اس معاملے پر متعلقہ رہنماؤں اور اراکین اسمبلی سے بات کی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے خیبر پختونخوا کے اراکین اسمبلی کو پارٹی کا قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران انہوں نے عمران خان کا ساتھ دیا، قربانیاں دیں اور مشکل حالات میں پارٹی کو فعال رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جلسوں، ریلیوں اور مارچوں میں بھی صوبے کے اراکین اسمبلی نے اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے تمام اراکین اسمبلی عمران خان، ان کے نظریے اور جدوجہد کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں بانی پی ٹی آئی کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پارٹی کے اہم فیصلوں اور مشاورت میں صوبائی قیادت اور اراکین اسمبلی کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ جنید اکبر خان کو عمران خان نے خود صوبائی صدر مقرر کیا تھا اور ان کی ہدایت پر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ ذمہ داران سے مشاورت ہوچکی ہے اور صوبائی تنظیم کے اجلاس میں بھی یہی مؤقف سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق آج یا کل اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ جنید اکبر کی واپسی تک صوبائی تنظیم اور موجودہ کابینہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ پارٹی کی توجہ عمران خان کے مؤقف، بیانیے اور جدوجہد پر مرکوز رہنی چاہیے اور اندرونی بحث یا غیر ضروری بیان بازی سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ سہیل آفریدی ہی خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ ہیں اور کسی دوسرے نام کا سوال پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ یہ فیصلہ عمران خان کا ہے۔



