امریکا کے ایران میں نئے فضائی حملے، تبریز اور شیراز سمیت متعدد شہروں کو نشانہ بنایا گیا

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا نے ایران کے مختلف شہروں میں فضائی حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق ایران کے چوتھے بڑے شہر تبریز پر امریکی فضائی حملے میں ایرانی فوجی افسر مہداد پاشائے شہید ہو گئے۔ تاہم ایرانی حکام نے فوری طور پر حملے کی مزید تفصیلات یا افسر کے عہدے سے متعلق معلومات جاری نہیں کیں۔

دوسری جانب ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق صوبہ فارس کے نائب گورنر نے تصدیق کی ہے کہ امریکی طیاروں نے شیراز شہر کے ایک علاقے کو نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے، تاہم حملے کے ہدف کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

ادھر رائٹرز کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے حملوں کا نیا مرحلہ شروع کیا ہے جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے دوران تبریز، چابہار، کنارک، بندر ماہشہر اور بندر امام خمینی سمیت متعدد شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

یہ حملے ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی تقریباً ختم ہو چکی ہے اور خطے میں دوبارہ شدید فوجی محاذ آرائی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

ایران اس سے قبل بحرین، کویت اور اردن میں امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے کر چکا ہے، جبکہ امریکا ایران کے میزائل مراکز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی تنصیبات اور فوجی مواصلاتی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنانے کا اعلان کر رہا ہے۔

اسی دوران آئی آر آئی بی نے مزید رپورٹ کیا کہ امریکا نے ایران کے وسطی صوبہ مرکزی کے شہر خمین کے نواح میں واقع ایک صنعتی یونٹ پر بھی حملہ کیا۔ صوبے کے سیاسی و سکیورٹی امور کے نائب گورنر کے مطابق حملہ شام تقریباً سات بجے ہوا، تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایرانی حملوں میں کوئی امریکی فوجی ہلاک ہوا تو امریکا اس کا سخت جواب دے گا۔

مزید خبریں

Back to top button