سندھ پولیس میں تاریخ کی سب سے زائد بھرتیاں کی گئی ہیں، آئی جی سندھ غلام نبی

سکھر (جانوڈاٹ پی کے) آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا ھے کہ سندھ پولیس میں تاریخ کی سب سے زائد بھرتیاں کی گئی ھیں، سندھ پولیس میں بیس ہزارسے زائدلوگ بھرتی ہوئے، کرمنل کیخلاف پالیسی کی منظوری اور مالی سہولت کی فراہمی پر حکومت سندھ کا شکر گزار ھوں، ہمارے سارے منصوبے ہماری سروس ڈیلوری اور پولیس کی محنت کی وجہ سے منظور ہوئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کے آڈیٹوریم میں منعقدہ پولیس دربار میں خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سکھر ڈویژن کے شہید پولیس اہلکاروں کی بہادری وخدمات اور امن و امان کے قیام سے متعلق کامیابیوں پر مبنی دستاویزی فلم پیش کی گئی جس میں سکھر پولیس کی فیلڈ کارکردگی، شہداء کے ورثاء کی کفالت اور کچہ کے دشوار گزار علاقوں میں پولیس آپریشنز کی جھلکیاں دکھائی گئیں اور سندھ بالخصوص سکھر پولیس کی کامیابیوں پرمبنی ثقافتی ملِی نغمے اور نظمیں پیش کیئے گئے، جبکہ بدنام زمانہ اور سنگین مقدمات میں مطلوب کرمنلز کے خلاف کاروائیوں پر ڈی آئی جی، ایس ایس پی سکھر کو تعریفی اسناد جبکہ پولیس ٹیمز کو سی سی ون اور تعریفی اسناد بھی دی گئیں۔آئی جی سندھ پولیس نے مذید کہا کہ ڈی آئی جی سکھرکیجانب سے اغواء برائے تاوان کے خلاف حکمت عملی قابل ستائش ھے، سکھر پولیس کے 335 افسران وجوان مختلف واقعات میں شہیدہوچکے ہیں آئی جی سندھ نے کہا کہ جو کرمنل لڑنا چاہتا ہے اس کو پولیس نے بھرپور جواب دیا،انہوں نے کہا کہ سکھرتاریخی طورپر مشکل رینج ھے ،یہاں پر قبائلی دشمنیاں، کچہ کے دشوار گزار علاقے اور بارڈرز ہیں۔تمام مشکلات کے باوجود یہاں کی پولیس نے اپنا لوہا منوایا ھے اور ہمیشہ بنا ڈرے جرائم پیشہ عناصرکو منہ توڑجواب دیا ھے ،پولیس نے جان کی قربانیاں دینے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ مجموعی طور پر سکھر پولیس کی کارکردگی باعث اطمینان ہے۔ قبل ازیں ڈی آئی جی سکھر کیپٹن ریٹائرڈ فیصل عبداللہ نے اپنے خطاب میں آئی جی سندھ کے وژن کو خراجِ تحسین پیش کرتے کہا کہ انکے وژن نے سندھ پولیس کو نئی جہت دی انکے وژن سے اغواء برائے تاوان کا خاتمہ ممکن ہوا، آئی جی سندھ کا سروس کیریئر فلاح، ترقی، اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن سے عبارت ھے، انکے دور میں سندھ پولیس میں انقلابی تبدیلیاں آئیں، انہوں نے سندھ پولیس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا، ڈی؛ آئی جی سکھر کا کہنا تھا کہ آپریشنل اور انویسٹی گیشن ونگز میں نمایاں بہتری آئی ھے، سکھر پولیس کی کمان سنبھالتے وقت اغواء کے 54 کیسز زیرِ تفتیش تھے،آج آئی جی سندھ کی قیادت میں سکھر ڈویژن میں اغواء کا کوئی کیس باقی نہیں ھے، آئی جی سندھ کے وژن سے اغواء برائے تاوان کا خاتمہ ممکن ہوا، تقریب میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن کو ڈی آئی جی سکھر، ایس ایس پیزسکھر، گھوٹکی، خیرپور، ایس ایس پی سکھر اسپیشل برانچ کی جانب سے علیحدہ علیحدہ اجرک اور یادگار پیش کی گئیں۔ پولیس دربار میں ڈی آئی جی سکھر، کمشنرسکھر، ایس ایس پیز، سکھر، گھوٹکی، خیرپور، اسپیشل برانچ، ونگ کمانڈر پاکستان رینجرزسندھ اور دیگر صوبائی و وفاقی سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی



