ایران کی بڑی وارننگ: ناکہ بندی جاری رہی تو آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دیں گے

تہران(ویب ڈیسک) لبنان میں جنگ بندی کے معاہدے کے نتیجے میں اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کھولے جانے کے بعد ایرانی حکومت دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھی تو وہ آبنائے ہرمز کو بار پھر بند کر دے گا۔
آبی راستے کی بحالی سے حصص بازاروں میں تیزی آئی اور تیل کی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں دیکھنے میں آئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امن معاہدہ بہت قریب ہے اور یہ کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے پر رضامند ہو گیا ہے جو مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ تھی جبکہ ایران نے اس دعوے کی بھی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ کہیں نہیں جا رہا۔
ایران نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر امریکی جنگی بحری جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں سے جانے والے بحری جہازوں کو روکا تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔
پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر لکھاکہ ناکہ بندی جاری رہنے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھلی نہیں رہے گی، اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کے لیے ایران سے اجازت درکار ہو گی۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے ایک گھنٹے میں سات دعوے کیے، جو سارے جھوٹے تھے، ان جھوٹوں سے جنگ نہیں جیتی اور یقینی طور پر مذاکرات میں بھی انہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا، ناکہ بندی جاری رہنے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھلا نہیں رہے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا اور بند ہونا انٹرنیٹ پر نہیں ہوتا، اس کا فیصلہ میدان میں کیا جاتا ہے اور ہماری مسلح افواج یقینی طور پر جانتی ہیں کہ دوسرے فریق کی کسی بھی کارروائی کے جواب میں کیسا برتاؤ کرنا ہے۔‘
بقائی نے کہا کہ جسے وہ بحری ناکہ بندی کہتے ہیں ایران کی جانب سے یقینی طور پر اس کا مناسب جواب دیا جائے گا، بحری ناکہ بندی جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے اور ایران یقینی طور پر ضروری اقدامات کرے گا۔
ایرانی وزارتِ دفاع کے مطابق آبنائے ہرمز میں آمدورفت حملے نہ کرنے سے مشروط ہے اور اس اہم تجارتی گزرگاہ تک رسائی کا انحصار جنگ بندی کی موجودہ صورتحال پر ہے۔
وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمزصرف جنگ بندی کی صورت میں ہی کھلی رہے گی، فوجی جہازوں اور دشمن قوتوں سے وابستہ بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال عارضی ہے اور اگر زمینی حالات، خصوصاً لبنان سے متعلق صورتحال میں تبدیلی آتی ہے تو اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔



