آج کی فلموں سے خود کو ہم آہنگ نہیں کر سکتی، ہیما مالنی نے انڈسٹری سے دوری کی وجہ بتا دی

ممبئی(جانوڈاٹ پی کے)بالی ووڈ کی معروف و سینئر اداکارہ اور سیاست دان ہیما مالنی نے 1970 اور 1980 کی دہائی میں فلمی دنیا پر راج کیا۔ وہ اس عہد میں بھارتی سنیما کی بڑے اسٹارز میں شامل تھیں۔
ہیما مالنی کو ان کی خوبصورتی اور یادگار فلموں جن میں شعلے، سیتا اور گیتا، باغبان اور ستّے پہ ستّہ کی بدولت بالی ووڈ کی ڈریم گرل کہا جاتا تھا۔
حال ہی میں بھارتی میڈیا کو ایک انٹرویو میں78 سالہ ہیما مالنی نے بھارتی سنیما کے سنہرے عہد کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اب فلموں میں کام اسلیے نہیں کرتیں کیونکہ آج جس انداز میں فلمیں بنتی ہیں ان سے خود کو ہم آہنگ کرنا بہت مشکل ہے۔
انکا کہنا تھا کہ وہ بالکل مختلف دور تھا، بلکہ میں کہوں گی کہ وہ فلم انڈسٹری کا سنہری زمانہ تھا۔ میں خود کو خوش نصیب سمجھتی ہوں کہ مجھے اس دور کا حصہ بننے کا موقع ملا۔ اس وقت بہت سی خوبصورت فلمیں بنیں، میری پہلی فلم سپنوں کا سوداگر، خوشبو اور کئی دوسری فلمیں بھی میرے لیے بہت خاص رہیں۔
ہیما مالنی نے کہا کہ آج جب میں ماضی پر نظر ڈالتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ میں تقریباً 200 فلموں میں کام کر چکی ہوں۔ زیادہ تر پروڈیوسرز اپنی اگلی فلموں میں بھی مجھے دوبارہ کاسٹ کرتے تھے۔ ان دنوں ہر فلم میں پانچ یا چھ گانے ہوتے تھے اور پروڈیوسرز کے لیے ہٹ گانوں کا ہونا بے حد اہم سمجھا جاتا تھا۔
انہوں نےکہا آج کل فلم سازی پہلے کے مقابلے میں بالکل مختلف اور مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ بہت سے لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں اب کام کیوں نہیں کرتی، تو آج جس انداز سے فلمیں بنائی جاتی ہیں، اس کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا میرے لیے بہت مشکل ہے۔
یاد رہے کہ تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والی ہیما مالنی نےاپنے کیریئر کا آغاز 1968 میں فلم سپنو کا سوداگر سے کیا اور پھر اس قدر کامیاب رہیں کہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔



