گل پلازہ حادثہ نہیں دہشتگردی ہے،چشم دید گواہ کے سنسنی خیز انکشافات
گل پلازہ آتشزدگی کیس میں سنسنی خیز انکشافات، فائر سیفٹی اور الارم موجود نہ ہونے کا دعویٰ، ملبہ اٹھانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

گواہ شاہد نے بیان دیا کہ گل پلازہ انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے باعث دکاندار اور گاہک کئی گھنٹے تک پھنسے رہے اور لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق بروقت کوششیں کی جاتیں تو انسانی جانوں کو بچایا جاسکتا تھا۔
گواہ نے کہا کہ آگ مارکیٹ کے اندر لگی، اس لیے اس کے بقول اس معاملے کی ذمہ داری گل پلازہ انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آگ کی شدت اور پھیلاؤ دیکھ کر انہیں شبہ ہوا کہ یہ سوچی سمجھی سازش ہوسکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے میں جانی نقصان کے ساتھ کاروباری اور معاشی نقصان بھی ہوا۔
شاہد نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے 22 جنوری کو ڈی آئی جی، ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس ایچ او نبی بخش کو خط لکھ کر مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی، تاہم ان کے مطابق اس پر کارروائی نہیں ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے سیشن جج کی عدالت سے رجوع کیا، جس کے بعد 31 جنوری کو پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مقدمہ 23 جنوری کی شام درج کیا جاچکا تھا۔
سماعت کے دوران گواہ نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ کے 16 دروازوں میں سے صرف دو سے چار دروازے کھلے ہوئے تھے۔ عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ رپورٹ کے بجائے اپنا بیان قلمبند کروائیں۔ گواہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گل پلازہ یونین رجسٹرڈ نہیں تھی۔
گواہ نے اپنے بیان میں کہا کہ حالات و واقعات دیکھ کر انہیں یہ محض حادثہ نہیں بلکہ دہشت گردی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کچھ ویڈیوز بھی موجود ہیں جو ان کے مؤقف کی تائید کرسکتی ہیں۔ عدالت نے ویڈیوز پیش کرنے کا کہا، تاہم واضح کیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرنے کے لیے اس مرحلے پر ویڈیوز کی ضرورت نہیں۔ گواہ نے استدعا کی کہ ان کی گواہی جھوٹی ثابت ہونے سے پہلے انہیں سازشی ٹولے کا حصہ قرار نہ دیا جائے۔
بعد ازاں وکیل صفائی جاوید میر نے گواہ سے جرح کی اور ان کے کاروبار سے متعلق سوالات کیے۔ شاہد نے بتایا کہ وہ گل پلازہ میں منرل واٹر سپلائی کرتے تھے اور خالی و بھری بوتلیں پلانٹ میں رکھی جاتی تھیں۔ ان کے مطابق آگ سے ان کے کاروبار کو بھی نقصان پہنچا، تاہم کاروبار زیادہ بڑا نہیں تھا اور ماہانہ آمدن تقریباً چار سے پانچ لاکھ روپے تھی۔
گواہ نے بتایا کہ ان کا کاروبار ’’ایٹس پیور‘‘ کے نام سے تھا، جو کسی ادارے میں رجسٹرڈ نہیں تھا۔ وکیل صفائی کے سوال پر انہوں نے تصدیق کی کہ کاروبار انکم ٹیکس، سندھ بورڈ آف ریونیو یا کسی دوسرے محکمے میں رجسٹرڈ نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گل پلازہ انتظامیہ نے کبھی پانی کی لیبارٹری رپورٹ طلب نہیں کی، جبکہ وکیل صفائی کی جانب سے قانونی تقاضے پورے کرنے اور غیر معیاری پانی فراہم نہ کرنے کی ہدایت سے متعلق مؤقف کی انہوں نے تردید کی۔
وکیل صفائی نے آگ میں جلنے والی پانچ لاکھ روپے مالیت کی بوتلوں کے کلیم سے متعلق بھی سوال کیا۔ گواہ نے واضح کیا کہ انہوں نے کسی قسم کا کلیم جمع نہیں کروایا، اس لیے ادائیگی نہ ہونے کی وجہ کلیم کی تصدیق نہیں تھی بلکہ انہوں نے کلیم ہی نہیں کیا تھا۔



