امریکا، ایران کشیدگی سے عالمی منڈیاں لرز اٹھیں، تیل مہنگا، اسٹاک مارکیٹوں میں شدید دباؤ

سنگا پور(مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جغرافیائی و سیاسی خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتیں کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جبکہ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں فروخت کا دباؤ بڑھنے سے سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل تقریباً 4 فیصد اضافے کے بعد 87.33 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جو کئی ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی تقریباً 4 فیصد اضافے کے ساتھ 82.09 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
دیگر اہم خام تیل کے بینچ مارکس میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ مربان کروڈ 80.77 ڈالر جبکہ ڈبلیو ٹی آئی مڈلینڈ 81.81 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا۔
معاشی ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشے کے باعث خریداری میں اضافہ کیا، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہوئیں۔
صرف خام تیل ہی نہیں بلکہ توانائی کی دیگر مصنوعات بھی مہنگی ہو گئیں۔ امریکی گیسولین فیوچرز، ڈچ ٹی ٹی ایف نیچرل گیس، امریکی نیچرل گیس اور جاپان-کوریا ایل این جی بینچ مارک میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی بنیادی وجہ یہ خدشہ ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جہاں سے دنیا کی خام تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی متاثر کیا۔ امریکا میں وال اسٹریٹ کا آغاز منفی رجحان کے ساتھ ہوا جہاں ایس اینڈ پی 500، ناسڈیک اور ڈاؤ جونز دباؤ کا شکار رہے، جبکہ یورپ میں جرمنی اور فرانس کی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ برطانیہ کی مارکیٹ کو صرف بڑی تیل کمپنیوں کے حصص نے سہارا دیا۔
ایشیا میں بھی جاپان، جنوبی کوریا اور چین کی اسٹاک مارکیٹیں دباؤ میں رہیں، جہاں بالخصوص ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص فروخت کی زد میں آئے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار رہیں تو پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ درآمدی بل میں اضافے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں وسعت، روپے پر دباؤ اور مہنگائی میں مزید شدت آنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی سرمایہ کار محتاط دکھائی دیے، کیونکہ بلند تیل کی قیمتیں ملکی معیشت، عوامی مالیات اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈیوں کا آئندہ رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ تنازع محدود رہتا ہے یا پورے خطے میں وسیع جنگ کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات دنیا بھر میں مہنگائی، توانائی کی لاگت اور مالیاتی منڈیوں پر مرتب ہوں گے۔



