ریاست کیخلاف بغاوت یا آئینی حق؟ آزاد کشمیر میں حالات’پوائنٹ آف نو ریٹرن’ پر!”

مظفر آباد: خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)​آج کا دن ملکی سیاست میں انتہائی ہنگامہ خیز رہا ہے۔ ایک طرف گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری رہا، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلز پارٹی 10 اور مسلم لیگ (ن) 6 نشستیں حاصل کر سکتی ہے، تاہم کسی بڑے اپ سیٹ کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔

​دوسری جانب آزاد کشمیر میں صورتحال شدید کشیدہ ہے جہاں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 جون کے احتجاج اور لاک ڈاؤن کی کال کے بعد حالات سنگین ہو چکے ہیں۔ آزاد پتن سمیت مختلف راستے بند کر دیے گئے ہیں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنانے جیسے واقعات نے حکومت کی رٹ کو چیلنج کر دیا ہے۔ اس نازک صورتحال پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کر کے آزاد کشمیر حکومت کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

​اس دوران آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر فیصلہ دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ 12 مہاجر نشستوں کو کسی انتظامی حکم کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ انہیں آئینی تحفظ حاصل ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ تبدیلی کا واحد راستہ اسمبلی میں آئینی ترمیم ہے۔ ریاست کی طرف سے امن و امان کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button