غزہ میں5سالہ ہند رجب اور 15 امدادی کارکنوں کی ہلاکت، اسرائیل کا فوجی اہلکاروں کیخلاف تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ

تل ابیب(جانوڈاٹ پی کے)اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں جنوری 2024 میں 5 سالہ فلسطینی بچی ہند رجب اور مارچ 2025 میں 15 امدادی کارکنوں کے ہائی پروفائل قتل پر فوجی اہلکاروں کے خلاف داخلی تحقیقات شروع کرے گی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے یہ فیصلے اس کے ‘فیکٹ فائنڈنگ اینڈ اسسمنٹ میکانزم’ کی جانب سے کی گئی ابتدائی جانچ کے بعد کیے گئے ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کی ہلاکتوں سے متعلق پانچ مختلف واقعات کے حوالے سے فیصلے جاری کیے ہیں، ان واقعات میں اپریل 2024 میں ‘ورلڈ سینٹرل کچن’ نامی فلاحی ادارے کے 7 امدادی کارکنوں کے قتل کا جائزہ بھی شامل تھا۔

 اس واقعے پر اسرائیلی فوج نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے ’مجرمانہ بدانتظامی کا کوئی ایسا معقول شبہ نہیں ملا جو مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کا جواز بن سکے‘۔

اسرائیل میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے قتل پر اسرائیلی فوجیوں کے خلاف فوجداری تحقیقات میں سزا کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے دوران جنوری 2024 میں 5 سالہ بچی ہند رجب گھنٹوں تک ایک کار میں پھنسی رہی اور موبائل فون پر فلسطینی طبی عملے سے مدد مانگتی رہی جبکہ اس وقت گاڑی میں اس کی خالہ، خالو اور تین کزن پہلے ہی شہید ہو چکے تھے۔

جب ایک ایمبولینس وہاں پہنچی تو بچی اور خود امدادی کارکنوں سے رابطہ ٹوٹ گیا اور 12 دن بعد اس علاقے سے ہند رجب، اس کے رشتہ داروں اور  ایمبولینس میں موجود طبی عملے کی لاشیں برآمد ہوئیں۔

اسی طرح مارچ 2025 میں ہونے والے ایک اور واقعے میں غزہ کے جنوبی علاقے کی ایک اجتماعی قبر سے ریڈ کریسنٹ، فلسطینی سول ڈیفنس اور اقوام متحدہ کے 15  امدادی کارکنوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ ٹام فلیچر نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں بتایا تھاکہ ان لاشوں کو ’تباہ شدہ اور واضح نشانات والی گاڑیوں‘ کے قریب دفن کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا ’ان افراد کو اسرائیلی فورسز نے زندگیاں بچانے کی کوشش کے دوران قتل کیا، ہم اس کا جواب اور انصاف مانگتے ہیں‘۔

مزید خبریں

Back to top button