اسرائیل نے غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کیلیے طویل دیوار کھڑی کردی

غزہ(جانوڈاٹ پی کے)اسرائیل نے اپنے توسیع پسندانہ اور جارحانہ عزائم کے تحت غزہ کے اندر تیزی سے کئی کلومیٹر طویل مٹی کی دیوار تعمیر کرنا شروع کردی۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل حالیہ مہینوں میں 23 کلومیٹر سے زیادہ طویل دیوار تعمیر کرچکا ہے جو اُن فلسطینی آبادیوں سے گزرتی ہے جنہیں اسرائیلی فوج نے جنگ کے دوران منہدم کر دیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیل نے دیوار کی تعمیر میں موجودہ رفتار برقرار رکھی تو یہ رکاوٹ غزہ کے جنوبی شہر رفح سے خان یونس اور پھر غزہ سٹی کے قریب تک ایک مسلسل دفاعی پٹی کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔

اسرائیلی فوج نے اے پی کی جانب سے فراہم کردہ سیٹلائٹ تصاویر دیکھنے کے بعد تصدیق کی کہ اس نے نام نہاد یلو لائن کے ساتھ ایک زمینی رکاوٹ تعمیر کی ہے۔ یہ وہ حد بندی ہے جہاں اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج نے پسپائی اختیار کی تھی۔

اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ اس رکاوٹ کے ساتھ ایک سیکیورٹی زون بھی قائم کیا گیا ہے جہاں جدید نگرانی، انٹیلی جنس اور تکنیکی نظام نصب کیے گئے ہیں۔ جس کا مقصد حماس کے جنگجوؤں کی دراندازی روکنا، سرحدی علاقوں اور اسرائیلی فوجیوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوبی غزہ میں صرف دو ہفتوں کے دوران اس رکاوٹ کی لمبائی تقریباً 500 میٹر سے بڑھ کر 2.4 کلومیٹر ہوگئی۔ یہ دیوار رفح کے تباہ شدہ علاقوں کو المواصی کے خیمہ بستیوں سے الگ کر رہی ہے جہاں لاکھوں بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فروری سے شروع ہونے والی تعمیرات اب خان یونس سے غزہ شہر کے قریب تک تقریباً 17 کلومیٹر طویل مسلسل حصے کی شکل اختیار کر چکی ہیں جبکہ شمالی غزہ کے بیت لاہیا کے اطراف بھی کئی مقامات پر ایسی رکاوٹیں دیکھی گئی ہیں۔

اگرچہ جنگ بندی معاہدے میں یلو لائن کو ایک عارضی انتظام قرار دیا گیا تھا تاہم تعمیر ہونے والی نئی دیوار نے فلسطینیوں میں یہ خدشہ پیدا کر دیا کہ اسرائیل غزہ کے نصف سے زائد علاقے پر مستقل کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ جو جنگ بندی کی نگرانی کر رہی ہے اور غزہ کی مستقبل کی انتظامیہ کے لیے قائم امریکی بورڈ آف پیس نے اس دیوار پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے زیر کنٹرول غزہ کے تقریباً نصف حصے میں بیشتر عمارتیں بلڈوزروں اور دھماکوں سے مسمار کی جا چکی ہیں۔

رفح سمیت کئی قصبے تقریباً مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں جبکہ نئی فوجی سڑکیں، چوکیاں اور اڈے قائم کیے جا رہے ہیں۔ زرعی اراضی کا بڑا حصہ بھی تباہ ہوچکا ہے۔

اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں حماس کے فوجی ڈھانچے اور انفراسٹرکچر کو ختم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد بھی اسرائیلی حملوں میں 1,100 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تر فضائی اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنے۔

دوسری جانب اسی عرصے میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں میں پانچ اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے۔

منگل کی صبح غزہ شہر میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں فراس المصری، ان کی اہلیہ اور 6 سے 13 سال عمر کے چار بچے جاں بحق ہوگئے۔

الشفا اسپتال کے مطابق پورا خاندان شہید ہو گیا تاہم اسرائیلی فوج نے صرف اتنا کہا کہ اس نے اس علاقے میں حماس کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا تھا۔

واضح رہے کہ غزہ جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اس حملے سے ہوا تھا جس میں 1,200 اسرائیلی ہلاک اور 251 افراد یرغمال بنائے گئے تھے۔ اس کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 75 ہزار فلسطینی شہید اور لاکھوں زخمی ہوچکے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button