یمنی حوثیوں کا بحیرہ احمر میں اسرائیلی بحری نقل و حرکت پر پابندی کا اعلان

صنعا(جانوڈاٹ پی کے)یمنی حوثیوں نے بحیرہ احمر میں اسرائیلی بحری نقل و حرکت پر پابندی کا اعلان کر دیا اور کہا حالات کو دیکھتے ہوئے فوجی آپریشنز میں اضافہ کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق یمن کی حوثی فورسز نے بحیرہ احمر میں بین الاقوامی بحری گزرگاہوں پر اسرائیل کا گھیراؤ سخت کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے میں حوثی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اب بحری میدان میں اسرائیل کی کسی بھی قسم کی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

بحیرہ احمر اور اس کے اطراف کے سمندری راستوں میں اسرائیلی کمپنیوں، مال بردار جہازوں اور عسکری نقل و حرکت پر مکمل پابندی رہے گی جبکہ بحیرہ احمر کی حدود میں پائے جانے والے تمام اسرائیلی مفادات، اثاثے اور جہاز اب حوثی فوج کے براہِ راست عسکری نشانے پر ہوں گے۔

حوثی قیادت کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور دشمن کی جارحیت کے جواب میں ان کے فوجی آپریشنز کی شدت اور دائرہ کار میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘الجزیرہ’ کے مطابق حوثیوں نے صرف سمندری پابندی پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اسرائیل کی سرزمین کو بھی نشانہ بنایا۔

حوثی باغیوں نے اسرائیل کے علاقے یافا میں قائم انتہائی حساس نوعیت کے فوجی و اسٹریٹجک اہداف پر بیلسٹک یا کروز میزائلوں سے حملے کیے اور کہا یہ میزائل کارروائی ایران، فلسطین، لبنان، عراق اور یمن میں امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت اور فضائی حملوں کا منہ توڑ جواب ہے۔

حوثی باغیوں نے واضح کیا کہ ان کی یہ جنگ اسرائیل کے "گریٹر اسرائیل” کے عزائم اور خطے پر تسلط قائم کرنے کے لیے تیار کی گئی "نئے مشرقِ وسطیٰ” کی نام نہاد اسرائیلی اسٹریٹجی کے خلاف ہے اور وہ اس الحاق کو ناکام بنا کر دم لیں گے۔

مزید خبریں

Back to top button