فراری کی پہلی الیکٹرک کار پر شدید تنقید، شیئرز گر گئے، مارکیٹ ویلیو کو بڑا دھچکا

اٹلی (ویب ڈیسک)دنیا کی معروف لگژری کار ساز کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی "لُوچے” (Luce) رونمائی کے فوراً بعد شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے باعث کمپنی کی مارکیٹ ویلیو اور شیئرز کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس نئی گاڑی کا تصور معروف ڈیزائنر جونی آئیو کے فکری وژن سے متاثر ہے۔ اطالوی زبان میں "لُوچے” کا مطلب "روشنی” ہے۔ یہ فراری کی تاریخ کی پہلی پانچ نشستوں والی مکمل الیکٹرک گاڑی ہے جو صرف ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔
گاڑی کی قیمت تقریباً 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر (پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ 18 کروڑ روپے) رکھی گئی ہے۔
اٹلی میں ہونے والی تقریبِ رونمائی میں پوپ لیو اوراٹلی کے صدر کی موجودگی کے بعد بھی گاڑی کو مثبت پذیرائی نہ مل سکی۔ رونمائی کے اگلے ہی دن فراری کے شیئرز میں تقریباً 8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
فراری کے سابق چیئرمین لوکا کورڈیرو ڈی مونتیزیمولو نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ ماڈل فراری کی تاریخی شناخت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کو اس گاڑی سے اپنا روایتی لوگو بھی ہٹا دینا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق گاڑی کا ڈیزائن روایتی فراری سپورٹس کاروں جیسا نہیں، جبکہ الیکٹرک موٹر کی وجہ سے وہ مخصوص گرجدار آواز بھی موجود نہیں جو فراری برانڈ کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔
ادھر اٹلی کے نائب وزیر اعظم ماتیو سالوینی نے بھی گاڑی کی کلاسیکی شناخت پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا صارفین اس کا موازنہ نسبتاً سستی الیکٹرک گاڑیوں سے کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں سست روی دیکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب لیمبورگنی، پورشے اور فورڈ موٹر کمپنی بھی اپنی برقی گاڑیوں کی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہی ہیں۔
تاہم فراری کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بینی ڈیٹو وینا نے تمام تنقید مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گاڑی کی قیمت اور خصوصیات اس کی جدت کی عکاس ہیں اور خریداروں کی دلچسپی حوصلہ افزا ہے۔



