عراق میں ایرانی ڈرون کا بارودی مواد پھٹ گیا، امریکی فوجی ہلاک، جنگ میں امریکی ہلاکتیں 17 ہو گئیں

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک)عراق کے شمالی علاقے میں ایرانی ڈرون سے گرائے گئے غیر پھٹے ہوئے بارودی مواد کو ناکارہ بنانے کی کارروائی کے دوران دھماکے میں ایک امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہو گیا، جس کے بعد ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکی ہلاکتوں کی تعداد 17 تک پہنچ گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بتایا کہ ایک گرائے گئے ایرانی حملہ آور ڈرون کے غیر پھٹے ہوئے دھماکا خیز مواد کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنانے کی کوشش کے دوران کنٹرولڈ آپریشن کے دوران دھماکا ہوا، جس میں ایک امریکی اہلکار جان کی بازی ہار گیا۔
امریکی فوج کے بیان کے مطابق 28 فروری سے ایران کے ساتھ جاری جنگی کارروائیوں میں اب تک 420 سے زائد امریکی اہلکار زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ کم از کم ایک فوجی تاحال لاپتا ہے۔
اس سے قبل اردن میں واقع امریکی فوجی اڈے موفق السلطي ایئر بیس پر ایرانی حملے میں دو امریکی اہلکار ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ایک فوجی کو لاپتا قرار دیا گیا تھا۔
امریکی محکمہ دفاع نے حال ہی میں ہلاک ہونے والے دو اہلکاروں کی شناخت 25 سالہ ٹائلر جیمز فیہان اور 19 سالہ ازابیلا گونزالیز کے نام سے ظاہر کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے فوجیوں کی قربانی رائیگاں نہیں جانے دے گا۔
صدر ٹرمپ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکا ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا، جبکہ امریکی فوج نے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے اعزاز میں ایران پر مزید سخت حملے کیے ہیں۔



