ایران کے خلاف جنگ سے جلد نکل سکتے ہیں، امریکی صدر

ٹوپیکا(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ سے جلد نکل سکتا ہے، تاہم ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی صلاحیت اور قیادت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے، جبکہ ایران کے معاملے پر ساتھ نہ دینے والے یورپی ممالک پر بھی کڑی تنقید کی۔
ریاست کنساس میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار اور فضائی دفاعی نظام تباہ ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے 229 لڑاکا طیارے رن ویز پر تباہ پڑے ہیں، جبکہ ایرانی قیادت کی پہلی اور دوسری سطح کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔
امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت نے ضمانت طلب کی ہے کہ اسے سابق رہنماؤں کی طرح نشانہ نہ بنایا جائے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ان کی پہلی صدارتی مدت کے دوران نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے ایران میں گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران 75 ہزار مظاہرین کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا۔
امریکی صدر نے ایران کے معاملے پر یورپی ممالک کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا نے یورپ سے مدد طلب کی، لیکن یورپی ممالک واشنگٹن کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق یہ امریکا کے لیے ایک امتحان تھا اور وہ یورپی ممالک کے اس رویے کو کبھی نہیں بھولیں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو درحقیقت یورپی ممالک کی مدد کی ضرورت نہیں تھی، تاہم اتحادیوں سے تعاون کی توقع تھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یورپ نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو امریکا کو یورپ سے نکلنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود امریکا ہمیشہ یورپ کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔
امریکی صدر نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور اپنی سرحدیں بند کریں۔
ٹرمپ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے واشنگٹن اپنے اہداف کے حصول کا دعویٰ کررہا ہے، تاہم جنگ سے جلد نکلنے کے امکان کے ساتھ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کا مؤقف بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب یورپی اتحادیوں پر ان کی تنقید امریکا اور یورپ کے تعلقات میں مزید تناؤ کا اشارہ دیتی ہے۔



