🌍پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی!آج سے اقوام متحدہ کے عالمی ڈس آرمامنٹ فورم کی صدارت سنبھال لے گا

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان کو عالمی سفارت کاری میں ایک اہم ذمہ داری مل گئی، پاکستان آج سے اقوام متحدہ کی کانفرنس آن ڈس آرمامنٹ (Conference on Disarmament) کی صدارت سنبھال رہا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی جنیوا میں آئندہ ہفتے ہونے والے اہم اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق طاہر حسین اندرابی عالمی فورم کی صدارت کے ساتھ ساتھ ترجمان دفتر خارجہ کی ذمہ داریاں بھی بدستور انجام دیتے رہیں گے۔
☢️جوہری ہتھیار، خلا میں اسلحے کی دوڑ اور ملٹری AI ایجنڈے میں شامل
پاکستان اپنی صدارت کے دوران عالمی سلامتی سے متعلق کئی اہم اور حساس معاملات کو بحث کا مرکز بنائے گا۔ ان میں خلا میں اسلحے کی دوڑ کی روک تھام، جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ، منفی سلامتی کی ضمانتیں اور فوجی شعبے میں مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے تزویراتی چیلنجز شامل ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی صدارت ایسے وقت میں شروع ہورہی ہے جب دنیا کو جوہری خطرات، نئی جنگی ٹیکنالوجی اور عالمی سلامتی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے۔
🚀خلا کو جنگ کا میدان بننے سے روکنے پر اہم بحث
پاکستان کی زیر صدارت ہونے والی بحث میں خلا میں اسلحے کی دوڑ روکنے کا معاملہ بھی خصوصی اہمیت رکھے گا۔ بدلتی ہوئی جنگی ٹیکنالوجی کے تناظر میں خلا کو ہتھیاروں کی دوڑ سے محفوظ رکھنے کے لیے عالمی سطح پر اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
🤖ملٹری AI بھی عالمی ایجنڈے کا اہم حصہ
فوجی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے پیدا ہونے والے تزویراتی اور سلامتی کے خطرات بھی زیر بحث آئیں گے۔ پاکستان عالمی برادری کے سامنے اس حوالے سے ممکنہ خطرات اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے متعلق بحث کو آگے بڑھائے گا۔
پاکستانی صدارت اہم سفارتی پیش رفت
پاکستان نومبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے ایک اہم قرارداد کی ڈرافٹنگ اور منظوری میں معاونت کے ساتھ ساتھ کانفرنس کی سالانہ رپورٹ اور مستقبل کے ایجنڈے کی تیاری کی قیادت بھی کرے گا۔
65ممالک پر مشتمل اس عالمی فورم کی صدارت موجودہ جغرافیائی اور عالمی سلامتی کی صورتحال میں پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔
پاکستان کو ایسے وقت میں عالمی ڈس آرمامنٹ فورم کی قیادت ملی ہے جب جوہری ہتھیاروں، خلا میں عسکری سرگرمیوں اور مصنوعی ذہانت کے فوجی استعمال جیسے معاملات عالمی طاقتوں کے لیے بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔ پاکستان کی صدارت میں ان حساس معاملات پر ہونے والی بحث عالمی سطح پر خصوصی توجہ حاصل کرسکتی ہے۔



