19 سالہ نوجوان نے کروڑوں کی جائیداد خاندان کے بجائے دوست کے نام کردی

 بیجنگ(جانوڈاٹ پی کے)چین کے 19 سالہ طالب علم نے اپنی تقریباً 20 ملین یوآن (تقریباً 28 کروڑ پاکستانی روپے) مالیت کی جائیداد خاندان کے بجائے اپنے بچپن کے دوست کے نام وصیت کر دی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر بحث چھڑ گئی۔

رپورٹس کے مطابق شنگھائی سے تعلق رکھنے والے نوجوان، جس کی شناخت صرف خاندانی نام ‘لی’ سے ظاہر کی گئی ہے، نے اپنی وصیت چین کے وصیت رجسٹریشن مرکز میں باقاعدہ طور پر رجسٹر کرائی۔ اس کی جائیداد میں ایک اپارٹمنٹ اور وہ بچت شامل ہے جو اسے والدین کی طلاق اور بعد ازاں دوبارہ شادی کے بعد ملی تھی۔

نوجوان کا کہنا ہے کہ اسے خطرناک کھیلوں کا شوق ہے، اسی لیے اس نے کم عمری میں ہی اپنی جائیداد کے مستقبل سے متعلق فیصلہ کر لیا تاکہ اگر اسے کچھ ہو جائے تو اس کے اثاثے اس کی مرضی کے مطابق تقسیم ہوں۔

لی نے بتایا کہ وہ اپنے والدین کے موجودہ شریک حیات کو اجنبی سمجھتا ہے اور نہیں چاہتا کہ اس کی جائیداد مستقبل میں ان کے پاس جائے۔ اسی وجہ سے اس نے اپنے بچپن کے ایک قریبی دوست کو وارث مقرر کیا، جس پر اسے مکمل اعتماد ہے۔

چینی قانون کے مطابق غیر شادی شدہ اور بے اولاد شخص کی جائیداد کے قانونی وارث عموماً والدین ہوتے ہیں، تاہم قانون ہر شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ باقاعدہ قانونی وصیت کے ذریعے اپنی جائیداد کسی بھی شخص کے نام منتقل کر سکتا ہے۔

چین کے وصیت رجسٹریشن مرکز کے مطابق حالیہ برسوں میں نوجوانوں میں وصیت تیار کرانے کا رجحان بڑھ رہا ہے، اور 1980، 1990 اور 2000 کے بعد پیدا ہونے والی نسل بھی اپنے اثاثوں کی مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

نوجوان کے اس فیصلے پر سوشل میڈیا صارفین کی آرا تقسیم ہیں۔ بعض افراد نے اسے ذاتی اور قانونی حق قرار دیا، جبکہ بعض نے خاندان کے بجائے دوست کو وارث بنانے کے فیصلے پر سوالات اٹھائے۔

مزید خبریں

Back to top button