اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 34 نئی یہودی آبادیوں کیلئے 1.3 ارب شیکل کے فنڈز منظوری دیدی

تل ابیب(جانوڈاٹ پی کے)اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 34 نئی یہودی آبادیاں قائم کرنے کے لیے 1.3 ارب شیکل تقریباً 434 ملین ڈالر کے بجٹ کی منظوری دیدی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا اعلان اسرائیلی وزیر خزانہ اور انتہائی دائیں بازو کی ریلیجس صہیونزم پارٹی کے سربراہ بیزلیل اسموٹریچ نے کیا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی کابینہ نے 34 نئی آبادیاں قائم کرنے کے لیے 1.3 ارب شیکل کے فنڈز کی منظوری دے دی۔
اسرائیلی وزیر خزانہ نے کہا کہ ان نئی بستیوں کے قیام کے بعد ان کی چار سالہ مدت میں منظور ہونے والی نئی یہودی آبادیوں کی مجموعی تعداد 103 ہوجائے گی۔
اقوام متحدہ اور بیشتر ممالک نے ایک بار پھر اسرائیلی آبادکاری کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
بیزلیل اسموٹریچ نے مزید بتایا کہ نئی آبادیوں کو مرکزی شاہراہوں سے منسلک کرنے کے لیے سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر مزید 1.075 ارب شیکل خرچ کیے جائیں گے۔
انھوں نے اس فیصلے کو اسرائیل اور آبادکاروں کے لیے تاریخی دن قرار دیتے ہوئے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا شکریہ ادا کیا۔
خیال رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کئی دہائیوں سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کا سب سے اہم مسئلہ رہی ہے۔
اقوام متحدہ، بین الاقوامی عدالت انصاف، یورپی یونین، فلسطینی قیادت اور دنیا کے بیشتر ممالک مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قوانین اور چوتھے جنیوا کنونشن کے منافی قرار دیتے ہیں۔
اسرائیل اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ان بستیوں کو قانونی اور اپنی سیکیورٹی کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔
فلسطینی علاقوں کا جغرافیائی تسلسل ختم ہوگا اور مستقبل میں ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات مزید کمزور ہو جائیں گے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی خبردار کرچکی ہیں کہ آبادکاری کے مسلسل پھیلاؤ کے باعث فلسطینی آبادی کو زمینوں، زرعی وسائل اور نقل و حرکت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اور بیزلیل اسموٹریچ اور ان کی جماعت آبادکاروں کی حمایت مضبوط بنانے کے لیے آبادکاری کے منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔
یورپی وزرائے خارجہ کے حالیہ اجلاس میں بھی مقبوضہ علاقوں میں تیار ہونے والی مصنوعات پر تجارتی پابندی یا دیگر اقدامات زیر بحث آئے تاہم رکن ممالک کے درمیان اس حوالے سے ابھی اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔



