بلاول بھٹو کا اسلام آباد کے خلاف خطرناک ترین جوا، پی ٹی آئی اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بے نقاب!

لاہور: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)۔ پاکستان کی سیاست میں اس وقت زلزلہ آ گیا ہے جب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے علاقے شگر میں کھڑے ہو کر اسلام آباد کے فیصلہ سازوں اور مقتدر حلقوں کے خلاف ایک انتہائی خطرناک سیاسی جوا کھیل دیا ہے۔ بلاول بھٹو نے وفاق کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وفاق اگر واقعی کنگال ہو چکا ہے تو کشمیر اور گلگت بلتستان کی نام نہاد وفاقی وزارتوں کو فوری ختم کیا جائے اور تمام مالی، سیاسی اور انتظامی اختیارات مقامی اسمبلیوں کو منتقل کیے جائیں۔ انہوں نے شگر کے وسائل اور ماربل پر وہاں کے عوام کا حق جتاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھا کوئی "بابو” ان وسائل پر فیصلہ نہیں کر سکتا۔ مبصرین کے مطابق بلاول کا یہ سخت بیانیہ اٹھارویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ پر دباؤ اور کراچی کو وفاق کے سپرد کرنے کی مبینہ کوششوں کے ردعمل میں مقتدرہ کو ایک کھلی جنگ کی دھمکی ہے، جو ملک کو ایک نئے سیاسی بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
دوسری جانب، لندن میں مقیم یوٹیوبر عادل راجہ نے اسرائیل کے انتہا پسند قدامت پسند (Orthodox) اور صیہونی نظریات کے حامل جریدے "مشپاحا” (Mishpacha) کو سنسنی خیز انٹرویو دے کر پاکستان کی فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف شدید ہرزہ سرائی کی ہے۔ عادل راجہ نے خود ٹویٹ کر کے اس انٹرویو کا اعتراف کیا ہے، جس سے بانی پی ٹی آئی عمران خان، جمائمہ گولڈ سمتھ کی این جی او، شہزاد اکبر اور صیہونی لابی کا مبینہ گٹھ جوڑ اور اینٹی پاکستان نیٹ ورک مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا ہے۔ صحافتی حلقوں کے مطابق صیہونی جریدے کے ساتھ مل کر وطن فروشی اور ریاستی اداروں کے خلاف بغض نکالنے والے ان عناصر کا انجام انتہائی عبرتناک ہوگا۔
بلاول بھٹو کے اس خطرناک ترین یو ٹرن، مقتدرہ کے ساتھ ممکنہ بڑی سیاسی جنگ اور عادل راجہ کے اسرائیلی لابی کے ساتھ گٹھ جوڑ کی مکمل اندرونی کہانی جاننے کے لیے سینیئر صحافی گوہر بٹ کا یہ وی لاگ مکمل دیکھیں۔




