بدین کے آبادگار اور ہاری رائس ملز مالکان اور چاول ایکسپورٹرز سے تنگ

آبادگاروں اور ہاریوں کا سندھ حکومت کے نوٹس لینے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/ نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے) بدین ضلع کے آبادگار اور ہاری پورا سال، خاص طور پر بدین کی ساحلی پٹی میں، زرعی پانی کی مصنوعی قلت کے خلاف سراپا احتجاج رہتے ہیں۔ بڑی مشکل سے بدین کے حصے کا تھوڑا سا پانی انہیں فراہم کیا جاتا ہے، جس سے وہ دھان کی فصل کاشت کرتے ہیں۔لیکن جب دھان کی فصل پک کر مارکیٹ میں آتی ہے تو رائس ملز مالکان اور چاول کے ایکسپورٹر سرمایہ دار آپس میں گٹھ جوڑ کرکے دھان کی فی من خرید قیمت کم کر دیتے ہیں، یہ جواز پیش کرتے ہوئے کہ "ڈالر کی قیمت گر گئی ہے”۔ اس کے ساتھ ہی، وہ نمی کا بہانہ بنا کر فی من تین سے پانچ کلو وزن کی ناجائز کٹوتی بھی کرتے ہیں۔

رائس ملز مالکان اور چاول کے ایکسپورٹر سرمایہ داروں کی جانب سے آبادگاروں اور ہاریوں کے ساتھ اس معاشی دہشت گردی کے خلاف، بدین کے ہزاروں آبادگاروں اور ہاریوں نے پہلے بدین-کراچی روڈ پر اور بعد ازاں ڈی سی آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا.

آبادگاروں اور ہاریوں کا سندھ حکومت کے نوٹس لینے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

آبادگاروں اور ہاریوں کا کہنا تھا کہ جب تک سندھ حکومت اس معاملے کا نوٹس لے کر دھان کی خرید قیمت ساڑھے چار ہزار روپے فی من مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کرتی، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔احتجاج میں مختلف سیاسی، سماجی، تاجر اور مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے کارکنان اور رہنما بھی شریک ہوئے۔

مزید خبریں

Back to top button