ایران جنگ:اسرائیل کے آذربائیجان اور دیگر ممالک میں خفیہ اڈوں کےانکشافات

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)حالیہ امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کے دوران اسرائیل نے مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں خفیہ فوجی اور انٹیلیجنس تنصیبات استعمال کیں۔ ان رپورٹس کے مطابق آذربائیجان، عراق، متحدہ عرب امارات اور صومالی لینڈ جیسے خطوں میں اسرائیلی ایلیٹ یونٹس، کمانڈو فورسز اور موساد کے اہلکار تعینات رہے، جنہوں نے ایران کے خلاف انٹیلیجنس جمع کرنے اور ڈرون آپریشنز میں کردار ادا کیا۔

خفیہ نیٹ ورک کا دعویٰ

سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ تعیناتیاں ایک وسیع تر خفیہ نیٹ ورک کا حصہ تھیں جس کا مقصد ایران کے اندر اور گردونواح میں نگرانی اور ممکنہ کارروائیوں کو آسان بنانا تھا۔ ذرائع کے مطابق بعض مقامات ایران کے شمالی اور مغربی سرحدی علاقوں کے انتہائی قریب تھے، جس سے اسرائیل کو ایران کے اہم شہروں اور عسکری تنصیبات پر نظر رکھنے میں مدد ملی۔

آذربائیجان کا مبینہ کردار

رپورٹ میں سب سے زیادہ توجہ آذربائیجان کے جنوبی علاقوں پر دی گئی ہے، جہاں مبینہ طور پر اسرائیلی فورسز سرگرم رہیں۔ یہ علاقے ایران کے شہر تبریز کے قریب واقع ہیں، جس کی وجہ سے خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے۔ امریکی میڈیا کے مطابق انہی مقامات سے انٹیلیجنس معلومات اکٹھی کی گئیں اور ڈرون آپریشنز بھی کیے گئے۔

تاہم آذربائیجان کی حکومت نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی سرزمین کسی بھی تیسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔

دیگر خطوں میں موجودگی

رپورٹ میں عراق اور متحدہ عرب امارات کو بھی ایسے ممکنہ خفیہ آپریشنز کا حصہ بتایا گیا ہے۔ ان مقامات کو ابتدائی طور پر ہنگامی حالات میں ریسکیو یا لاجسٹک مراکز کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ تھا، لیکن بعد میں انہیں عسکری اور انٹیلیجنس سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔

اسی طرح صومالی لینڈ میں بھی ایک مبینہ فضائی یا لاجسٹک سہولت کا ذکر کیا گیا ہے، جس کے ذریعے طویل فاصلے کی پروازوں اور آپریشنز میں مدد لی گئی۔

ایران پر اثرات اور خطے کی کشیدگی

اگر ان رپورٹس کو درست مانا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کو ایران کے گرد ایک اسٹریٹجک برتری حاصل رہی، جس نے اسے ایران کے اندر مختلف اہداف تک رسائی دینے میں مدد دی۔ اس صورتحال نے نہ صرف ایران کی سیکیورٹی پالیسی کو چیلنج کیا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ایران کے اندر مبینہ حملوں اور ڈرون کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی، جبکہ مختلف ممالک پر غیر جانبداری برقرار رکھنے کے لیے دباؤ بھی دیکھا گیا۔

بین الاقوامی ردعمل اور تضاد

رپورٹ کے مطابق مختلف ممالک نے ان الزامات کی تردید کی ہے جبکہ امریکی میڈیا انہیں انٹیلیجنس ذرائع کی بنیاد پر سامنے لایا گیا دعویٰ قرار دیتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال ابھی بھی غیر واضح اور متنازع ہے، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button