صدرِ آصف زرداری کا نفرت انگیز تقاریر کے انسداد کے عالمی دن پراہم پیغام

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) نفرت انگیز تقاریر کے انسداد کے عالمی دن پر صدرِمملکت آصف علی زرداری کا پیغام۔

آج، میں عالمی برادری کے ساتھ مل کر تمام مذاہب، پس منظر اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان احترام، رواداری اور باہمی فہم و ادراک کو فروغ دینے کی اہمیت کا اعادہ کرتا ہوں۔ نفرت پر مبنی بیانیے، تعصبات، اشتعال انگیزی اور امتیازی رویے نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ امن، انسانی وقار اور اقوام کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔ آج کی باہم مربوط دنیا میں نفرت کا پھیلاؤ کسی ایک معاشرے یا خطے تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ سرحدوں سے ماورا ہو کر اجتماعی امن، استحکام اور ترقی کو متاثر کرتا ہے۔

اسلام ایک ایسا دین ہے جو رحمت، رواداری، عدل، اعتدال اور انسانیت کے احترام کی اقدار کو فروغ دیتا ہے۔ قرآنِ مجید ہمیں اپنی گفتگو اور طرزِ عمل میں شائستگی، حکمت اور راست بازی اختیار کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہا کرو۔”

(الاحزاب: 70)

قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:

"اور لوگوں سے بھلی بات کہو۔”

(البقرہ: 83)

اللہ تعالیٰ کا یہ بھی ارشاد ہے:

"برائی کو بھلائ سے دفع کرو۔”

(حم السجدہ: 34)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔”

(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا:

"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”

(صحیح بخاری)

ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ نے اظہارِ رائے کے مواقع کو بے حد وسعت دی ہے۔ تاہم یہ آزادی اپنے ساتھ یہ ذمہ داری بھی لاتی ہے کہ ہماری گفتگو سچائی، حکمت اور دوسروں کے احترام کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کرے۔ غیر ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو اور نفرت انگیز مواد سے تقسیم، بداعتمادی اور تشدد کو فروغ ملتا ہے، جس سے معاشرہ کمزور ہوجاتا ہے۔

پاکستان ایک متنوع معاشرہ ہے جہاں مختلف مذاہب، مسالک، ثقافتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں۔ ہمارا آئین ہر شہری کے مساوی حقوق، مذہبی آزادی اور انسانی وقار کی ضمانت دیتا ہے۔ ہماری اجتماعی قوت اتحاد، باہمی احترام اور رواداری میں مضمر ہے۔ لہٰذا بین المذاہب ہم آہنگی، بین المسالک افہام و تفہیم، تعمیری مکالمے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ناگزیر ہے ۔

نفرت انگیز تقاریر لوگوں کی روزمرہ زندگی، خواہ وہ تعلیمی ادارے، دفاتر، عبادت گاہیں یا آن لائن پلیٹ فارمز ہوں، کو متاثر کرتی ہیں۔ یہ معاشرے میں تقسیم پیدا کرتی ہیں اور باہمی اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

اس موقع پر میں علمائے کرام، اساتذہ، ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد، سول سوسائٹی کی تنظیموں، تعلیمی اداروں اور بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ نفرت پر مبنی بیانیوں کے انسداد اور احترام، ہمدردی اور مثبت مکالمے پر مبنی معاشرتی ثقافت کے فروغ میں فعال کردار ادا کریں۔ نفرت انگیز تقاریر کے چیلنج سے صرف قانونی اقدامات کے ذریعے نمٹا نہیں جا سکتا بلکہ اس کے لیے تعلیم، اخلاقی تربیت اور شعور و آگاہی کے فروغ کی کوششیں بھی ناگزیر ہیں۔

آئیے ہم اس عزم کا اعادہ کریں کہ ہماری گفتگو، تحریر اور طرزِ عمل اعلیٰ اخلاقی اقدار اور ہماری دینی تعلیمات کی عکاسی کرے۔ عوامی مکالمے کے معیار کو بہتر بنانے میں ہم میں سے ہر فرد کا کردار اہم ہے۔ اگر ہم دشمنی کے بجائے احترام اور تقسیم کے بجائے مکالمے کو اختیار کریں تو ہم ایک ایسا معاشرہ تعمیر کر سکتے ہیں جہاں اختلافات کو نفرت نہیں بلکہ باہمی فہم و ادراک کے ذریعے حل کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، استحکام، اتحاد اور خوشحالی سے نوازیں اور پوری انسانیت کو باہمی سمجھ بوجھ، ہم آہنگی اور احترام کے فروغ کی توفیق عطا فرمائیں۔پاکستان زندہ باد

مزید خبریں

Back to top button