پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس،بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام آڈٹ اعتراضات پر تحقیقات تیز کرنے کی ہدایت

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)کنوینر کمیٹی معین عامر پیرزادہ کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر 19 ارب 23 کروڑ کی رقم مشکوک طریقے سے نکالنے کا معاملہ سامنے آیا۔
آڈٹ حکام کے مطابق بی آئی ایس پی قانون کے تحت ضلع یا صوبے سے باہر پیسے نہیں نکالے جاسکتے۔ 39 اضلاع کی پیمنٹ ملتان میں موبائل شاپ سے ہوئی، 92 لوگوں کے جائزہ میں آدھے سے زائد لوگ ٹریس نہ ہوسکے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ہمیں دو ہفتوں کی مہلت دی جائے تاکہ بی آئی ایس پی سے بات ہوسکے جس پر کنوینر معین عامر پیرزادہ نے سوال کیا کہ آٹھ ماہ میں ایف آئی نے کام کیوں نہیں کیا؟
ایف آئی اے کے حکام نے کہا کہ ہم نے کوشش کی لیکن ابھی ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔ ایڈیشنل سیکریٹری بی آئی ایس پی نے کہا کہ ذیلی کمیٹی نے معاملہ 15 دن میں حل کرنے کی ہدایت کردی۔ ایف آئی اے کے ساتھ ریکارڈ شیئر کرچکے ہیں۔
سرکاری ملازمین، پنشنرز، ان کے شریک حیات کا بی آئی ایس پی سے پیسے لینے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ کنوینر کمیٹی نے کہا کہ گریڈ 21 اور 22 کے افسران کے خلاف کیا کاروائی کی گئی؟ گریڈ 22 کا افسر کتنا کم ظرف ہوگا جو 4 ہزار روپے ماہانہ لے گا۔
ایڈیشنل سیکریٹری بی آئی ایس پی کے مطابق بی آئی ایس پی کے اپنے لوگ نچلے گریڈز کے تھے، ہم نے انکوائریز کیں لیکن کسی ملازم کو نہیں نکالا۔
کنوینر کمیٹی نے استفسار کیا کہ آپ نے انٹرنل کنٹرولز کو بہتر کرنے کیلئے کیا اقدامات کیے؟ جس پر ایڈیشنل سیکریٹری بی آئی ایس پی نے کہا کہ یہ پرانے کیسز ہیں، نئے کیسز سامنے نہیں آئے۔
سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ جب پوری آرگنائزیشن ڈیپوٹیشن پر چلے گی تو یہی ہوگا، ان کو پتہ ہی نہیں کہ آرگنائزیشن کیسے چلے گی۔ بعدازاں پی اے سی نے معاملہ اگلے اجلاس تک مؤخر کر دیا۔



