حوثی دھمکی: سعودی فوجی اتحاد کا باب المندب کی حفاظت یقینی بنانے اور تجارتی جہازوں کا ہر قیمت پر دفاع کا اعلان

ریاض (ویب ڈیسک) سعودی عرب اور یمن میں سرگرم سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے حوثی تنظیم انصار اللہ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بحری جہازوں کی حفاظت ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں حوثیوں کے مبینہ بحری ناکہ بندی کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ تنظیم کے الزامات بے بنیاد ہیں، جبکہ سعودی عرب یمن کے عوام اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت جاری رکھے گا۔

دوسری جانب سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے بھی اعلان کیا کہ آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کی سکیورٹی یقینی بنائی جائے گی اور اگر کسی جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ روز حوثی تنظیم انصار اللہ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدام یمن پر عائد مبینہ محاصرے کے ردعمل میں کیا جا رہا ہے۔ تنظیم کے ترجمان کے مطابق صنعا ایئرپورٹ کی بندش ناقابل قبول ہے اور اس کا جواب اسی نوعیت کے اقدامات سے دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل حوثیوں نے سعودی عرب پر صنعا ایئرپورٹ پر فضائی حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد سعودی عرب کی جانب میزائل حملوں کے دعوے بھی سامنے آئے۔ تاہم سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ان حملوں کو ناکام بنا دیا۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر باب المندب کے اہم بحری راستے میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل شدید متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button