گیس سیکٹر کے گردشی قرضے پر آئی ایم ایف کی نئی شرائط، سرکاری کمپنیوں کے نقصانات بُک کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) گیس سیکٹر کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کی سیٹلمنٹ کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے سامنے نئی شرائط رکھ دی ہیں، جن کے تحت سرکاری گیس کمپنیوں کی مالی پوزیشن کو حقیقت پسندانہ انداز میں ظاہر کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں سرکاری گیس کمپنیوں کے تمام مالی نقصانات کو باضابطہ طور پر اکاؤنٹس میں بُک کیا جائے، جبکہ وہ واجبات بھی نقصان تصور کیے جائیں جن کی وصولی اب ممکن نہیں رہی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی تجویز کے مطابق نقصانات کو اکاؤنٹس میں ظاہر کرنے کے بعد گیس کمپنیوں کو دوبارہ ری کیپٹلائز کیا جائے تاکہ ان کی مالی حیثیت مستحکم ہو سکے اور بیلنس شیٹ بہتر بنائی جا سکے۔

تاہم ذرائع کے مطابق اس شرط پر عملدرآمد کی صورت میں سرکاری گیس کمپنیوں کے شیئرز کی مالیت میں کمی کا خدشہ ہے، جس کے باعث پٹرولیم ڈویژن کے حکام ان شرائط کو فوری طور پر قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس وقت گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرضہ تقریباً 3 ہزار 300 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ زیر غور مجوزہ سیٹلمنٹ پلان کے تحت 1 ہزار 700 ارب روپے کے گردشی قرضے کو مرحلہ وار نمٹانے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ حالیہ ورچوئل مذاکرات کے دوران گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کے سیٹلمنٹ پلان پر حتمی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ اب اس معاملے پر ستمبر میں دوبارہ مذاکرات ہوں گے، جہاں امکان ہے کہ نیا سیٹلمنٹ پلان آئی ایم ایف کی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button