افغانستان میں خواتین کے حقوق کی صورتحال پر تشویش، طالبان پالیسیوں پر تنقید

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ طالبان کی پالیسیوں پر بین الاقوامی سطح پر تنقید سامنے آئی ہے۔

افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل مشن کے سربراہ نصیر احمد فائق نے طالبان کی پالیسیوں کو انصاف اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان میں خواتین کی گرفتاریوں، صنفی تشدد اور جبری شادیوں سے متعلق الزامات نے طالبان کے طرزِ حکمرانی پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

نصیر احمد فائق نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ طالبان پردے کے قوانین کے نفاذ کی آڑ میں حراست میں لی گئی بعض خواتین کو جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔

دوسری جانب افغانستان میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے کہا کہ طالبان خواتین اور لڑکیوں کے خلاف صنفی بنیادوں پر امتیازی اقدامات اور دیگر ایسے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں جنہیں وہ غیر انسانی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق طالبان کی قیادت اپنے اہلکاروں کے اقدامات سے آگاہ ہے اور یہ پالیسیاں اعلیٰ سطح پر منظور شدہ معلوم ہوتی ہیں۔

نصیر احمد فائق کا کہنا تھا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی مبینہ سنگین خلاف ورزیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ افغان عوام، بالخصوص خواتین، شدید دباؤ اور مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔

طالبان حکومت کی جانب سے ان الزامات پر اس خبر میں کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

مزید خبریں

Back to top button