جنگ بندی کے دوران ایران نے اربوں ڈالر کا تیل برآمد کیا، وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ماہ ہونے والی مختصر جنگ بندی کے دوران ایران نے مبینہ طور پر تیزی سے خام تیل برآمد کر کے 5 سے 6 ارب ڈالر کا مالی ذخیرہ جمع کر لیا۔ یہ دعویٰ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے دوران امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی میں نسبتاً نرمی آنے سے ایران کو بڑی مالی سہولت ملی، جس کے نتیجے میں اس نے صرف ایک ماہ میں تقریباً 7 کروڑ بیرل خام تیل ایشیائی منڈیوں، بالخصوص چین، کی جانب روانہ کیا۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق 17 جون کو امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے عارضی معاہدے کے بعد امریکی بحری ناکہ بندی میں نرمی آئی، جس سے ایران کو اپنی بندرگاہوں، خصوصاً چابہار، سے تیل بردار جہاز روانہ کرنے کا موقع ملا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی عرصے کے دوران تقریباً 20 ایرانی آئل ٹینکر ملائیشیا کے مشرقی ساحل کے قریب پہنچے، جہاں سے ان کا حتمی رخ چین کی جانب بتایا گیا۔ صرف جون کے آخری دو ہفتوں میں ہی ایران نے تقریباً 5 کروڑ بیرل خام تیل برآمد کیا۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ملائیشیا کے مشرقی سمندری علاقے میں ایرانی آئل ٹینکر اپنا تیل دوسرے جہازوں میں منتقل کرتے ہیں، تاکہ تیل کی اصل شناخت کو چھپایا جا سکے۔ بعد ازاں یہ تیل چین کی نجی ریفائنریوں، جنہیں "ٹی پاٹ ریفائنریز” کہا جاتا ہے، تک پہنچایا جاتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنگ بندی کے دوران روانہ کیا گیا زیادہ تر تیل ابھی تک ایشیائی منڈیوں کی جانب سفر میں ہے، جس کے باعث ایران کو آئندہ چند ماہ میں بھی اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے، چاہے نئی امریکی ناکہ بندی آئندہ برآمدات کو محدود ہی کیوں نہ کر دے۔

تاہم ایران کی جانب سے وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، اس لیے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

مزید خبریں

Back to top button