ایران پر امریکی حملے دسویں روز میں داخل، خطے میں مکمل جنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے

فلوریڈا(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی فوج نے ایران میں دسویں روز بھی نئے حملوں کا آغاز کر دیا ہے، جن کا مقصد ایرانی عسکری صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا بتایا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جزیرہ قشم، بندرعباس، چابہار، کنارک اور اصفہان میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، تاہم ایرانی حکام نے فوری طور پر حملوں سے ہونے والے نقصانات یا جانی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
دوسری جانب ایک امریکی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اردن میں تعینات امریکی فوجیوں پر حملوں کے نتیجے میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے جبکہ ایک امریکی ہیلی کاپٹر بھی متاثر ہوا۔ رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے درجنوں زخمی اہلکاروں کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے نہیں رکھیں۔
تاہم امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آپریشنل سیکیورٹی کے باعث تمام معلومات فوری طور پر جاری نہیں کی جاتیں۔
پینٹاگون کے مطابق ایران سے متعلق جاری جنگی کارروائیوں میں اب تک 427 امریکی فوجی زخمی جبکہ 17 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس تنازع کے دوران 1,700 سے زائد ایرانی شہری بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ادھر ایک امریکی نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حالیہ حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر مکمل جنگ کے دہانے پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔
علاقائی کشیدگی کے باعث کویت میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں اور فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ کویتی فوج کے مطابق ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کرنے کے لیے دفاعی کارروائیاں جاری ہیں۔



