بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ زور پکڑ گئی، نوجوان مودی سے استعفیٰ لینے دلی پہنچ گئے

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں شروع ہونے والی "کاکروچ جنتا پارٹی (CJP)” کی احتجاجی تحریک میں شدت آ گئی ہے۔ مظاہرین آج دہلی میں جمع ہو رہے ہیں اور پارلیمان کی جانب مارچ کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس کی جانب سے مختلف مقامات پر رکاوٹوں کے باوجود مظاہرین احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دارالحکومت دہلی کے جنتر منتر اور اطراف میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، جہاں پولیس کے ساتھ نیم فوجی دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
تحریک کیسے شروع ہوئی؟
کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک اس وقت ابھر کر سامنے آئی جب نیشنل میڈیکل کالج داخلہ ٹیسٹ کے پرچے لیک ہونے کے معاملے میں 20 لاکھ سے زائد طلبہ متاثر ہوئے اور انہیں دوبارہ امتحان دینا پڑا۔
بعد ازاں پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مہم شروع کی، جس میں بعد میں معروف سماجی کارکن سونم وانگچک بھی شامل ہو گئے۔
سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال
28 جون کو سونم وانگچک نے احتجاجی مقام پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی۔ تاہم ہفتے کے روز پولیس انہیں زبردستی اسپتال منتقل کر گئی، جس کے بعد احتجاج میں مزید شدت آ گئی اور ان کے حامی بڑی تعداد میں جنتر منتر پہنچ گئے۔
سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہاتھ سے لکھے گئے پیغام میں کہا کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال اسی وقت ختم کریں گے جب حکومت تعلیمی نظام کی ناکامیوں اور پرچوں کے لیک ہونے کی ذمہ داری قبول کرے گی۔
پارلیمان مارچ، تصادم کا خدشہ
اطلاعات کے مطابق اگر مظاہرین پارلیمان کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو پولیس کے ساتھ تصادم کا خدشہ موجود ہے، جس کے پیش نظر حساس مقامات پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
مظاہرین "مودی استعفیٰ دو” اور "دھرمیندر پردھان استعفیٰ دو” کے نعرے لگا رہے ہیں، جبکہ حکومت پر تعلیمی نظام میں اصلاحات اور شفافیت لانے کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر غیرمعمولی مقبولیت
رپورٹس کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی نے ابتدا میں سوشل میڈیا کے ذریعے مقبولیت حاصل کی اور چند ہی روز میں اس کے حامیوں کی تعداد دو کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ بعد ازاں بعض اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس تحریک کی حمایت کا اعلان کیا، جس سے یہ احتجاج مودی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔



