طالبان کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں قانونی کارروائی کی تیاری، خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر مقدمے کا مسودہ تیار

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز نے افغان طالبان کے خلاف عالمی عدالت انصاف (ICJ) میں دائر کیے جانے والے ایک قانونی مقدمے کا مسودہ تیار کر لیا ہے، جس میں خواتین کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ قانونی کیس میں طالبان پر خواتین کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔
آسٹریلوی تھنک ٹینک دی اسٹریٹجسٹ میں شائع ایک مضمون میں اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز کی صدر بنائیفر نوروجی نے کہا کہ اگست 2021 میں اتحادی افواج کے انخلا کے بعد طالبان نے خواتین کے خلاف 100 سے زائد پابندیوں اور احکامات نافذ کیے ہیں۔
ان کے مطابق افغان خواتین پر محرم کے بغیر گھر سے نکلنے، ملازمت کرنے اور چھٹی جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور یورپی پارلیمنٹ کے متعدد ارکان افغانستان کی موجودہ صورتحال کو "صنفی امتیاز” (Gender Apartheid) قرار دے چکے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا، کینیڈا، جرمنی اور نیدرلینڈز کی جانب سے ستمبر 2024 میں جاری قانونی نوٹس کے بعد یہ مجوزہ مقدمہ طالبان پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق افغانستان میں نافذ سخت گیر قوانین نے خواتین اور لڑکیوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر دیا ہے، جبکہ عالمی عدالت انصاف میں ممکنہ قانونی کارروائی طالبان حکومت پر سیاسی اور سفارتی دباؤ میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔



