بھارتی آبی جارحیت کیخلاف سندھ بھرمیں احتجاج،بدین میں جام علی ہالیپوٹو کی قیادت میں احتجاجی ریلی

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)مرسوں مرسوں، سندھو نہ ڈیسوں، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر بھارت کی آبی جارحیت اور دریائے سندھ کے پانی پر قدغن کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی ضلع بدین کے زیر اہتمام صدر پاکستان پیپلز پارٹی ضلع بدین و چیئرمین ضلع کونسل بدین جام علی اصغر ہالیپوٹو کی قیادت میں شہید بینظیر بھٹو پارک سے بدین پریس کلب تک ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی، جو پریس کلب پہنچ کر ایک بڑے احتجاجی جلسے میں تبدیل ہوگئی۔ ریلی میں پارٹی رہنماؤں، منتخب نمائندوں، کارکنوں، خواتین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا کر بھارت کے خلاف اور دریائے سندھ کے تحفظ کے حق میں نعرے لگائے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدر پاکستان پیپلز پارٹی ضلع بدین و چیئرمین ضلع کونسل جام علی اصغر ہالیپوتہ، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سجاد علی چانڈیو، رکن قومی اسمبلی میر غلام علی ٹالپر، صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز محمد اسماعیل راہو، ایم پی اے حاجی تاج محمد ملاح، ایم پی اے ارباب امیر امان اللہ، ایم پی اے بی بی یاسمین شاہ، محمد صالح ہالیپوٹو، علی بخش عرف پپو شاہ اور دیگر مقررین نے کہا کہ دریائے سندھ پاکستان کی زندگی، زراعت اور معیشت کی بنیاد ہے، اس کے پانی پر کسی بھی قسم کا ڈاکہ یا قدغن ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور ملک کے پانی، زمین، فضائی اور سمندری حقوق کے تحفظ کے لیے پوری قوم متحد ہے مقررین نے کہا کہ پاکستان کی زراعت کا انحصار بڑی حد تک دریائے سندھ کے پانی پر ہے، لہٰذا پانی کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ لاکھوں کسانوں، کاشتکاروں اور ملکی غذائی تحفظ کے لیے شدید خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف 36 گھنٹوں کے مختصر وقت میں جیالوں کی اتنی بڑی تعداد میں احتجاجی ریلی کا انعقاد کارکنوں کی محنت، اتحاد اور جماعت سے وابستگی کا واضح ثبوت ہے، جس پر وہ تمام کارکنوں کے بے حد شکر گزار ہیں مقررین نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے واضح اصول وضع کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کا احترام دونوں ممالک پر لازم ہے، اور اس کی خلاف ورزی نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی نفی ہے بلکہ خطے کے امن، استحکام اور زرعی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے جلسے کے اختتام پر مقررین نے مطالبہ کیا کہ دریائے سندھ پر پاکستان کے آبی حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے، بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کیا جائے اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پوری قوم دریائے سندھ اور پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری، قانونی اور آئینی فورم پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی



