ننگرپارکر میں 105 ایکڑ زرعی زمین کے تنازع پر متاثرہ خاندان کا تحفظ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) تعلقہ ننگرپارکر کی یونین کونسل ستی دہرہ کے گاؤں نیباڑو ساند کے رہائشی نواب علی ولد عیسیٰ، امام بخش، آدم اللہ بخش، محمد صدیق اور احمد ولد عیسیٰ قوم دل نے ایک پریس بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کے نام پر موجود زرعی زمین، جس کے مختلف سروے نمبر 149، 163، 95، 83، 41، 5، 2، 57، 39، 30 اور 07 ہیں اور جو مجموعی طور پر 105 ایکڑ سے زائد رقبے پر مشتمل ہے، پر ان کے قبضے اور حق کے باوجود انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ زمین سرکاری ریکارڈ میں ان کے کھاتے میں درج ہے، تاہم ان کے مطابق ان کے دادا سمون ولد خیر محمد دل کا فوتی کھاتہ مرحوم محمد ہارون ولد حبیب اللہ تھیبو کے نام منتقل کر دیا گیا، جس کے باعث تنازع پیدا ہوا۔متاثرہ فریق نے الزام لگایا کہ نور محمد ولد محمد ہارون، اسماعیل ولد محمد اور ایس آئی پی غلام حسین ولد عبدالستار تھیبو سمیت چند افراد ان کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹی درخواستیں اور عدالتی مقدمات درج کرا رہے ہیں، جبکہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ متاثرین نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی میرپورخاص اور ایس ایس پی تھرپارکر سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے، معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، اور اگر کسی فریق کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی یا ہراساں کرنے کے اقدامات ثابت ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مزید خبریں

Back to top button