ترکیےکو ایف35 طیاروں کی فراہمی اسرائیل کی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتی ہے، نیتن یاہو

تل ابیب(جانوڈاٹ پی کے)اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہونے امریکا پرزوردیا ہےکہ وہ ترکیےکو جدید ایف 35  اسٹیلتھ لڑاکا طیارے فروخت نہ کرے، ایسا کرنے سے خطے میں طاقت کا  توازن بگڑ جائےگا جواسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ مطالبہ ایسے وقت  سامنے آیا ہے جب چند روز بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکیے میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے ہیں، جہاں ترکیے کے دوبارہ ایف35 پروگرام میں شامل ہونےکی راہ ہموار ہونےکا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیےگئے انٹرویو میں نیتن یاہو نےکہا کہ اگر ترکیےکو یہ طیارے فروخت کیےگئے تو  مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن بگڑ جائےگا، جو ان کے بقول خطے میں  اسرائیل کی فضائی برتری اور امریکا کی موجودگی کی بدولت برقرار ہے، ترکیےکو ایف 35 طیارے یا جنگی طیاروں کے انجن نہیں دینے چاہئیں۔

ترک صدر اردوان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ترکیے ایک عظیم ملک ہے لیکن اس پر ایک ایسے شخص کی حکومت ہے جو کھلے عام اسرائیل کے خاتمے کی بات کرتا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہاکہ ترکیے میں اخوان المسلمون سے متاثر ایک حکومت قائم ہے جو امریکا سے نفرت کرتی ہے اور امریکا کی موت کے نعرے لگاتی ہے۔ انہوں نےقبرص کے آدھے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے، وہ یونان کو دھمکیاں دیتے ہیں اور کھلے عام  یروشلم (بیت المقدس) فتح کرنےکی بات کرتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ترکیےکے وزیر داخلہ نےکہا ہےکہ وہ یروشلم (بیت المقدس) کا گورنر بننےکے منتظر ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا نے 2019 میں ترکیے کو ایف35 طیاروں کی تیاری اور خریداری کے پروگرام سے خارج کر دیا تھا، کیونکہ ترکیے نے روس سے ایس-400 فضائی دفاعی نظام خرید لیا تھا۔اس وقت امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ ترکیے کے پاس موجود روسی نظام کے ذریعے ماسکو ایف35 طیارے کی حساس صلاحیتوں سے متعلق معلومات حاصل کر سکتا ہے۔

حال ہی میں  صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا ہےکہ وہ ترکیے کی دوبارہ ایف35 پروگرام میں واپسی کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔گزشتہ ستمبر میں ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ امریکا جلد ہی ترکیےکو ایف35 طیارے فروخت کرسکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button