کربلا صبر و استقامت کا عظیم درس، امام حسینؓ کی قربانی انسانیت کیلئے مشعلِ راہ ہے:مولانا سید علی رضا رضوی

میرپورخاص (شاھدمیمن) قرآن مجید صبر کرنے والوں کے لیے بے شمار بشارتیں دیتا ہے، واقعہ کربلا صبر، استقامت، قربانی اور ایثار کی عظیم مثال ہے، کربلا صبر و استقامت کا ایسا عظیم مدرسہ ہے جہاں سے انسان یہ سبق حاصل کرتا ہے کہ مشکلات، مصائب اور آزمائشوں کے باوجود حق و صداقت کا راستہ نہیں چھوڑنا چاہیے ان خیالات کا اظہار مولانا سید علی رضا رضوی نے حیدری مسجد و امام بارگاہ میں سید حسن میاں زیدی و پسران کی جانب سے منعقدہ مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا انھوں نے مزید کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار ساتھیوں نے میدانِ کربلا میں بھوک، پیاس، تنہائی اور ظلم و جبر کے بدترین حالات کا سامنا کرتے ہوئے حق کا علم بلند رکھا اور باطل قوتوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ کی قربانی محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک دائمی پیغام ہے آج بھی اگر معاشرے میں عدل، انصاف، رواداری اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے تو ہمیں کربلا کے پیغام کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہو گا انہوں نے کہا کہ امام عالی مقامؑ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ باطل کے سامنے خاموشی اختیار کرنا ظلم کی تائید کے مترادف ہے جبکہ حق اور انصاف کی خاطر قربانی دینا ہی حقیقی کامیابی ہے

مولانا سید علی رضا رضوی نے مزید کہا کہ اہلِ بیت اطہارؑ کی سیرت انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہے ان کی تعلیمات محبت، اخوت، بھائی چارے، صبر، برداشت اور عدل و انصاف کا درس دیتی ہیں انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ واقعۂ کربلا کے پیغام کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں مجلس عزاء سے قبل سید اشتیاق علی جعفری و برادران نے مرثیہ خوانی کی جبکہ ذاکر اسد عباس، ایمان حیدر اور دیگر نے سلام پیش کیا بعد از مجلس عزاداران امام حسینؑ نے نوحہ خوانی اور ماتم داری کی مجلس کے اختتام پر عزاداران میں نیازِ امام حسینؑ بھی تقسیم کی گئی۔

مزید خبریں

Back to top button