اکتوبرمیں بڑے سیاسی اورعسکری دھماکے کاامکان:تبدیلیاں،تبادلے سب ایک ساتھ!

راولپنڈی(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)طاقت کے محور اور ملکی سیاست کے اہم ترین شہر راولپنڈی میں اچانک ہونے والی بڑی انتظامی اکھاڑ پچھاڑ نے اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جس کے بعد ایک نئے پاور سیٹ اپ کی افواہیں گرم ہو گئی ہیں۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے سیاسی منظرنامے پر استحکام پاکستان پارٹی کی اچانک اور دھماکے دار انٹری نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو حیران کر دیا ہے، جہاں کئی آزاد امیدواروں سمیت سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس نے بھی پوزیشنیں تبدیل کر لی ہیں۔ اس سیاسی ہیجان کے بیچ گریزن سٹی راولپنڈی میں ایک ہی روز کے اندر کمشنر، ڈی سی، سی پی او اور اسسٹنٹ کمشنرز سمیت پوری سول و پولیس انتظامیہ کو ہٹا کر بڑے تبادلے کر دیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں تعیناتیوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی طرف سے شدید دباؤ ڈالا گیا تھا، تاہم وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کسی بھی قسم کا بلیک میلنگ یا سیاسی دباؤ قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور میاں شہباز شریف اور نواز شریف کے پاس معاملہ جانے کے باوجود اپنے اصولی موقف پر ڈٹی رہیں۔ دوسری طرف عسکری حلقوں میں بھی پروموشنز اور تبادلے پینڈنگ ہیں، جس کے بعد رواں سال اکتوبر کا مہینہ ملکی تاریخ کی طرح ایک بار پھر انتہائی اہمیت کا حامل ہو گیا ہے۔ اکتوبر میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اندر نئے فور اسٹار جنرلز کی تعیناتی اور ٹو اسٹار افسران کی ترقیاں متوقع ہیں، جو ملکی سیاست کا رخ بدل سکتی ہیں۔ اس سنسنی خیز اندرونی کہانی اور مکمل وی لاگ کو دیکھنے کے لیے شکیل ملک کے چینل لنک پر کلک کریں




