بدین کا شہری پنجاب میں مبینہ طور پرقتل،حافظ آباد پولیس کا مقدمہ درج کرنے سے انکار

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)پنجاب کے شہر شاہ جمال میں محنت مزدوری کے لیے جانے والے پنگریو کے نواحی علاقے دیہہ بنگار کے گاؤں حامد شاہ راشدی کے رہائشی35سالہ مزدور بھیم راج کولہی کے مبینہ قتل کے خلاف ورثا نے لاش پنگریو پہنچنے کے بعد پنگریو پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا دے کر قاتلوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔
ورثا کا کہنا تھا کہ بھیم راج کولہی روزگار کی غرض سے پنجاب کے ضلع حافظ آباد کے شہر شاہ جمال گیا ہوا تھا، جہاں ٹھیکیدار (جمعدار) پربھو کولہی سے کسی بات پر اختلافات پیدا ہونے کے بعد جھگڑا ہوگیاجس پر پربھو کولہی کے ساتھی اشوک کولہی اور کیول کولہی نے لاٹھیوں اورکلہاڑیوں کے وار کرکے بھیم راج کولہی کو شدید زخمی کر دیا، جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ مقتول کے بیٹے جمعون بھیل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ شاہ جمال پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بجائے انہیں یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ مقتول اور نامزد ملزمان کا تعلق سندھ سے ہے، اس لیے وہ اپنے آبائی علاقے میں جا کر مقدمہ درج کرائیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ لاش پنگریو لانے کے بعد جب انہوں نے پنگریو پولیس سے رجوع کیا تو یہاں بھی مقدمہ درج نہیں کیا جا رہا۔ احتجاج میں شریک ورثا اور مقامی افراد نے مطالبہ کیا کہ بھیم راج کولہی کے قتل میں ملوث نامزد ملزمان کے خلاف فوری مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا



